اسلام باوقار مذہب ، ناشائستہ حرکات قابل مذمت ، جلوس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں پر کڑی تنقید
حیدرآباد۔20اکٹوبر(سیاست نیوز) میلاد کے موقع پر جلوس کے دوران کی جانے والی بے وقاری سے موت بہتر ہے۔ اللہ کا دین انتہائی با وقار ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کا مقام و مرتبہ عرش سے زیادہ نازک ہے لیکن نوجوانوں کی جانب سے جو بے وقاری کے کام کئے جا رہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مولانا مفتی قاسم صدیقی تسخیرنے 11 ربیع الاول کی شب اور 12 ربیع الاول کی صبح جلوس کے دوران ہونے والی ناشائستہ حرکات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک انتہائی اعلیٰ اور باوقار مذہب ہے اور اس میں کسی بھی طرح کوئی بے وقاری کی گنجائش نہیں ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جن نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے اس جلوس کی 15 سال قبل بنیاد ڈالی ہے وہ انہیں جانتے ہیں اور اچھی طرح واقف ہیں کہ کس مقصد کے لئے یہ کام شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے شدید کرب و تکلیف کے عالم میں جذبات سے مغلوب ہوکر کہا کہ جن لوگوں نے جلوس اور اس میں کی جانے والی بے وقاری کی حرکات کی حوصلہ افزائی کی ہے اور نوجوان نسل کو اس راہ پر ڈالا ہے ان کی قبر میں کیڑے پڑیں گے۔ مولانا مفتی قاسم صدیقی تسخیر نے کتب خانہ آصفیہ میں خون کے عطیہ کیمپ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ میلاد جلوس کے نام پر ہونے والی حرکات اور بے وقاری کے کاموں کو روکنے اور انہیں اچھے کام کی سمت موڑنے کی کوشش کے طور پر 12 ربیع الاول کو کتب خانہ آصفیہ میں خون کے عطیہ کا کیمپ شروع کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ خون کا عطیہ کیمپ کسی بھی دن کیا جاسکتا ہے۔ انہو ںنے 11ربیع الاول کی شب ہونے والے حرکات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی بے عملی سے اللہ کی پناہ‘ نبی اکرمﷺ کا مقام انتہائی نازک ہے اس مقام میں سانس لینا بے ادبی تصور کیا جاتا ہے اور نبی پاکؐ کی میلاد کے موقع پر جس طرح کی بے وقاری کی حرکتیں حیدرآباد کا نوجوان کر رہا ہے یہ افسوسناک ہے اور یہ جو حرکتیں ہیں ان سے موت بہتر ہے۔ مولانا مفتی تسخیر صدیقی نے جلوس کے نام پر کی جانے والی حرکتوں کے ذمہ داروں سے برأت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسولﷺ کی عظمت‘ آپؐکا تقدس ‘ مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جن لوگوں نے جلوس کی حوصلہ افزائی کی ہے وہ لوگ موجودہ حالات اور نوجوانوں کی حرکتوں سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ اسلام میں اس طرح کی حرکتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔م