مین پوری : سماجو ادی پارٹی(ایس پی)سماج وادی پارٹی(ایس پی) کا قلعہ مانی جانے والی مین پوری لوک سبھا سیٹ پر یوں تو ڈمپل یادو ایس پی کی امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اتر ہیں لیکن اس بار اس سیٹ پر ان کیلئے جیت کی راہ اتنی آسان نظر نہیں آرہی ہے ۔ اس سیٹ پر ملائم سنگھ یادو کی بہو ڈمپل یادو اپنے سسر کی وراثت بچانے کیلئے جی جان سے جٹی ہے وہیں بی جے پی ہر حال میں مین پوری سیٹ جیتنے کے لئے قدرآور لیڈر کی تلاش میں ہے ۔ مین پوری سے اس بار چوکانے والا نام سامنے آنے کا ذکر ہے ۔ڈمپل یادو کی جیت کی راہ آسان نہیں ہونے والی ہے ۔ بی جے پی سے گاندھی کنبے سے کوئی یا ریاست کے سابق وزیر اعلی کے بیٹے کو انتخابی میدان میان تارنے کی چہ میگوئیاں تیز ہوگئی ہیں۔ امیدوار کے نام پر مہر ایک دو دن میں لگنے کے امکانات ہیں۔ مین پوری میں ایک بار پھر سے 1996 کے لوک سبھا الیکشن سے ٹکر ہونے کے قومی امکانات ہیں۔1996ملائم سنگھ یادو اور بی جے پی کے اپدیش سنگھ چوہان کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا تھا۔ مین پوری لوک سبھا سیٹ پانچ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے ۔ اگر ہم مین پوری ضلع کے کرہل، کشنی، بھوگاؤں ، مین پوری صدر اور اٹاوہ ضلع کے جسونت نگر اسمبلی حلقہ سے بنی مین پوری لوک سبھا سیٹ کے ذات پات کے مساوات پر نظر ڈالیں تو مین پوری سیٹ پر ہمیشہ یادو اور چھتریوں کے درمیان سخت مقابلہ رہا ہے ۔
برہمن اور شاکیہ ووٹروں نے ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے ۔ 1996 کے لوک سبھا انتخابات ہوں یا 1991 کے لوک سبھا انتخابات دونوں انتخابات میں مین پوری کا انتخاب بہت دلچسپ رہا ہے ۔ اس بار پھر مین پوری کے انتخابات سنسنی خیز ہونے کا امکان ہے ۔ مین پوری میں ملائم سنگھ کو سخت مقابلہ دینے والے راج ناتھ سنگھ کا مین پوری میں اچھا اثر ہے ۔ راجناتھ سنگھ تقریباً ہر الیکشن میں یہاں دو انتخابی ریلیاں کرتے ہیں۔مین پوری شہر اور پتارا میں سابق وزیر اعلیٰ راجناتھ سنگھ کی انتخابی ریلیوں کے بعد الیکشن دلچسپ ہوجاتاہے ۔ اس بار راجناتھ سنگھ کے بیٹے نیرج اور گاندھی خاندان سے ورون گاندھی کو مین پوری میں بھگوا لہرانے کے لیے میدان میں اتارے جانے کی چہ میگوئیوں سے سماج وادی پارٹی امیدوار ڈمپل یادو کی جیت کی راہ آسان نہیں ہوگی۔ مین پوری میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا بگل بج چکا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کی ڈمپل یادو 2022 کے لوک سبھا ضمنی انتخاب میں 2 لاکھ 88 ہزار ووٹوں سے جیتنے کے بعد ایک بار پھر پرجوش ہیں، لیکن بی جے پی کے پالیسی ساز مین پوری کو فتح کرنے کے لئے لگے ہیں۔ورون گاندھ، نیرج سنگھ یا پھر کوئی اور چوکانے والا نام سامنے آسکتا ہے ۔مین پوری میں تیسرے مرحلے میں 7مئی کو ووٹنگ ہوگی۔