میٹرو ریل میں سفر کرنے والے مسافرین کی تعداد 4 لاکھ سے گھٹ کر 4 ہزار ہوگئی

   

لاک ڈاؤن سے خسارے میں مزید اضافہ ، حکام کو خدمات جاری رکھنے میں مالی بحران کا سامنا
حیدرآباد :۔ لاک ڈاؤن کا میٹرو ٹرین پر گہرا اثر پڑا ہے ۔ لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے قبل روزانہ 4 لاکھ عوام میٹرو ٹرین سے سفر کیا کرتے تھے ۔ اب سفر کرنے والوں کی تعداد گھٹ کر 4 ہزار تک محدود ہوگئی ہے ۔ گذشتہ سال نافذ کردہ لاک ڈاؤن سے نقصان کا شکار رہنے والی میٹرو ٹرین دوبارہ مالی بحران کا شکار ہوگئی ہے ۔ حکام کی جانب سے میٹرو ٹرین کی خدمات کو عارضی طور پر معطل کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے لاک ڈاؤن میں صبح 6 تا 10 بجے تک 4 گھنٹوں کی نرمی دی ہے ۔ صبح میٹرو ٹرین چلائی جارہی ہے ۔ مگر سفر کرنے والی تعداد بڑی حد تک گھٹ گئی ہے ۔ روزانہ تین کاریڈار میں جملہ صرف 4 ہزار مسافر میٹرو ٹرین میں سفر کررہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں میٹرو ٹرین کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ اتنی کم تعداد میں مسافر سفر کررہے ہیں ۔ کورونا بحران سے قبل روزانہ 4 لاکھ عوام میٹرو ٹرین سے سفر کیا کرتے تھے ۔ ہر 15 منٹ میں ایک ٹرین عوام کو دستیاب ہوا کرتی تھی ۔ فی الحال ریاست میں 20 گھنٹوں کا لاک ڈاؤن نافذ ہے ۔ صبح 6 تا 10 بجے تک اشیاء ضروریہ وغیرہ خریدنے کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی دی گئی ہے جس کی وجہ میٹرو ٹرین کی اوقات میں 12 مئی سے تبدیلی لائی گئی ہے ۔ ٹرمنل اسٹیشنس میاں پور ، ایل بی نگر ، ناگول ، رائے درگم اور جے بی ایس سے صبح 7 بجے پہلی میٹرو ٹرین روانہ ہورہی ہے اور 8-45 بجے تک ہر 15 منٹ میں عوام کو ایک میٹرو ٹرین دستیاب ہے ۔ روزانہ 1000 سے زائد ٹرپس کرنے والی میٹرو ٹرین اب صرف 30 ٹرپس ہی چل رہی ہے ۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں 30 مئی تک توسیع کردی گئی ہے تو دوسری طرف میٹرو ٹرین میں سفر کرنے کے لیے عوام دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے حکام کو میٹرو ریل چلانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر میں گذشتہ سال لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی وجہ میٹرو ریل 169 دنوں تک اسٹیشنس تک محدود تھی ۔ تازہ لاک ڈاؤن سے مزید نقصانات کو برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔۔