سی پی آئی قائد کی جانب سے مفاد عامہ کی درخواست، رعایتی کرایوں کی بحالی کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 4 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے میٹرو ٹرین کے بھاری کرایوں کے سلسلہ میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کے علاوہ حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ اور ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل لمیٹیڈ سے جواب طلب کیا ہے۔ اندرون چار ہفتے بھاری کرایوں کے سلسلہ میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سنگھ ریڈی نے حیرت کا اظہار کیا اور حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ اور ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد لمیٹیڈ دو علیحدہ ادارے ہیں۔ سی پی ایم حیدرآباد یونٹ نے میٹرو ریل کے بھاری کرایوں کے سلسلہ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی ہے جس میں شکایت کی گئی ہے کہ مسافرین سے بھاری کرایہ وصول کیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں ایک طرفہ فیصلہ کیا گیا۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی خاموشی پر بھی نکتہ چینی کی گئی۔ یہ پراجکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا اور حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ نے حکومت سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرایوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایل اینڈ ٹی اور حیدرآباد میٹرو نے دو علیحدہ شناخت ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایل اینڈ ٹی کی نمائندگی علیحدہ ایڈوکیٹ کریں گے جبکہ حیدرآباد میٹرول ریل لمیٹیڈ کی نمائندگی ریاستی حکومت کے وکیل کریں گے۔ سی پی ایم کے گریٹر حیدرآباد سنٹرل سٹی کمیٹی سکریٹری ایم سرینواس ریڈی نے درخواست میں کہا کہ ایل اینڈ ٹی نے پراجکٹ کی تعمیر کے لیے اور رعایتی کرایوں کے سلسلہ میں مرکز سے 1458 کروڑ حاصل کئے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ میٹرو کوریڈار پر بڑے مالس تعمیر کئے گئے جس سے علیحدہ منافع حاصل ہورہا ہے۔ 4 لاکھ مسافرین کی گنجائش کے مطابق کرایہ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اضافی سرگرمی کی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کسی بھی خسارے کی صورت میں ریاستی حکومت کو پابجائی کرنی چاہئے لیکن میٹرو ریل لمیٹیڈ نے یکطرفہ طور پر کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ عدالت نے اندرون چار ہفتے جواب داخل کرنے کی نوٹس دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کردیا۔