نئی دہلی، 2 اپریل (آئی اے این ایس) انگلش سابقکرکٹرکیون پیٹرسن نے نوجوان بیٹر سمیر رضوی کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ میچ جیتنا صرف سنچری بنانے سے کہیں زیادہ خوشی دیتا ہے۔ رضوی کی 47 گیندوں پر ناقابلِ شکست 70 رنزکی اننگز کی بدولت دہلی کیپیٹلز نے انڈین پریمیئر لیگ 2026 کے افتتاحی میچ میں لکھنؤ سوپر جائنٹس کو ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں چھ وکٹوں سے شکست دی۔ پیٹرسن جو گزشتہ سال دہلی کیپیٹلز کے ساتھ بطور مشیرکام کر چکے ہیں، انہوں نیکہا کہ انہوں نے گزشتہ سیزن میں رضوی کو قریب سے دیکھا اور ان کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ رضوی پر اعتماد برقرار رکھیں کیونکہ وہ میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے جیو ہاٹ اسٹار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا رضوی نے صورتحال کو بہت خوبصورتی سے کھیلا اور مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ میں نے پچھلے سیزن میں سمیرکے ساتھ کافی وقت گزارا اور انہیں قریب سے دیکھا۔ انہوں نے ایک وارم اپ میچ میں سنچری بنائی تھی لیکن بدقسمتی سے ٹورنمنٹ کے پہلے حصے میں انہیں موقع نہیں ملا۔ تاہم جب بعد میں موقع ملا تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور سب نے تسلیم کیا کہ یہ ایک بہترین کھلاڑی ہے، جس پر طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔پیٹرسن نے مزید کہا جب آپ کسی نوجوان کھلاڑی پر اعتماد کرتے ہیں تو آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ وہ اس کا بدلہ دے گا اور اس میچ میں انہوں نے بالکل یہی کیا۔ انہوں نے دباؤ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ جب آپ اپنی ٹیم کو ایک بڑے میچ میں فتح دلواتے ہیں، خاص طور پر آئی پی ایل کے پہلے میچ میں جہاں دباؤ بھی ہوتا ہے اور سب کی نظریں آپ پر ہوتی ہیں، تو وہ احساس ایک ہائی اسکورنگ میچ میں سنچری بنانے سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ پیٹرسن نے دہلی کیپیٹلز کے کوچ کے اس فیصلے کی بھی حمایت کی، جس میں تجربہ کار بیٹر ڈیوڈ ملرکے بجائے ٹرستان اسٹبس کو پہلے بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا۔ ان کے مطابق ملر ایک فِنشرکے طور پر زیادہ موزوں ہیں جبکہ اسٹبس دباؤکو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیں تھا۔ ٹرستان اسٹبس ٹسٹ کرکٹ میں نمبر تین کے بیٹر ہیں۔ آپ کو ایسے کھلاڑی کی ضرورت ہوتی ہے جو نئی گیند کا سامنا کر سکے، دفاع میں مضبوط ہو اور دباؤکو جذب کر سکے۔ ڈیوڈ ملر ایک وائٹ بال ماہر اور فِنشر ہیں، اس مرحلے پر انہیں بھیجنا مناسب نہیں ہوتا۔آپ کے پاس ایک پراعتماد کھلاڑی ٹرستان اسٹبس موجود ہے۔ اگر آپ 20 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکے ہوں اور آپ کے پاس انتخاب ہو ٹرستان اسٹبس اور ڈیوڈ ملر کے درمیان، تو آپ یقیناً ٹرستان اسٹبس کو ہی بھیجیں گے۔میچ میں یہ فیصلہ بلکل درست تھا ۔