بیجنگ ۔ چائنا فٹ بال اسوسی ایشن نے میچ فکسنگ اور دیگر بدعنوانی کے الزام میں 43 افراد پر تاحیات پابندی عائد کردی ہے۔ اسوسی ایشن کی اس کارروائی میں38کھلاڑی اور5 میچ عہدیدار شامل ہیں۔ دیگرکھیلوں میں چین کا ریکارڈ عام طور پر اچھا ہے۔ جس کی وجہ سے اولمپکس کے دوران وہ 40 گولڈ میڈلس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا لیکن فٹ بال میں بدعنوانی کی وجہ سے اس کی حالت ہمیشہ بہت خراب رہی ہے۔ اسے بہتر بنانے اور اس کھیل میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے چینی فٹ بال اسوسی ایشن نے دو سال کی طویل تحقیقات کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ چائنا فٹ بال اسوسی ایشن کی اس تحقیقات میں120 میچز، 128 مشتبہ افراد اور41 کلبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسوسی ایشن نے دو سال طویل تحقیقات کی جس کے بعد 38 کھلاڑی اور 5 میچ عہدیدار قصوروار پائے گئے۔ سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام افراد آن لائن جوئے، میچ فکسنگ اور بدعنوانی کے معاملات میں ملوث تھے۔کچھ غیر ملکی کھلاڑیوں اور عہدیداروں پر قلیل مدتی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ان میں کچھ غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل تھے جو زیادہ تنخواہوں پر چین منتقل ہوئے تھے۔2026 ورلڈکپ کے لیے ایشیا کوالیفکیشن راؤنڈ کا تیسرا راؤنڈ شروع ہوگیا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے جاپان نے چین کو7-0 سے شکست دی تھی۔ یہ جاپان کے خلاف چین کی سب سے بڑی شکست تھی۔ اب اس کا مقابلہ سعودی عرب سے ہے۔ 2026 کے ورلڈکپ کی میزبانی امریکہ، میکسیکو اورکینیڈا کو کرنی ہے اور اس میں48 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ چین فیفا کی موجودہ عالمی درجہ بندی میں87 ویں مقام پر ہے اس کے پاس ابھی بھی اس میں کوالیفائی کرنے کا موقع ہے۔ یادرہیکہ چین نے 2002 میں ایک بارورلڈکپ میں رسائی حاصل کی تھی ۔ فیفا ورلڈکپ 2026 کے لیے 18 ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ انہیں 3 گروپس (اے ، بی اور سی ) میں تقسیم کیاگیا ہے جن میں سے ہر ایک گروپ میں 6 ٹیمیں ہے۔ ہرگروپ کی ٹاپ 2 ٹیمیں براہ راست ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کریں گی جب کہ نمبر 3 اور4 ٹیموں کو چوتھے راؤنڈ میں دوبارہ مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس وقت تمام ٹیمیں فی کس ایک میچ کھیل چکی ہیں۔ اس کے بعد گروپ اے میں متحدہ عرب امارات اور ایران، گروپ بی میں عراق اور اردن جبکہ گروپ سی میں جاپان اور بحرین ٹاپ ٹو میں موجود ہیں۔ گروپ سی میں چین اپنے حریف جاپان سے شکست کے بعد آخری مقام پر ہے۔