میڈیا اکیڈیمی کی جانب سے بانی سیاست جناب عابد علی خاں مرحوم پر مونو گراف

   

نمایاں صحافتی خدمات کے لیے زبردست خراج ، متوفی صحافیوں کے خاندانوں میں امداد کی تقسیم
حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ’ چند شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو زمانہ ساز ہوتی ہیں ۔ ان شخصیتوں میں ایک ممتاز نام جناب عابد علی خاں مرحوم کا بھی ہے ۔ دکن کی تاریخ میں صحافت کے ذریعہ انہوں نے ایک تاریخ رقم کی ہے ۔ پولیس ایکشن کے بعد جو سیاسی حالات پیدا ہوئے ۔ ان حالات میں اپنے قلم کے ذریعہ انہوں نے حیدرآبادیت کو ایک سمت دینے کی کوشش کی ‘ ۔ یہ اقتباس حکومت تلنگانہ کے مشیر برائے امور عامہ و تعلیم مسٹر کیشو راؤ نے بانی روزنامہ سیاست پدم شری عابد علی خاں مرحوم کی مونو گراف کے پیش لفظ سے اردو میں پڑھ کر سنایا ۔ یہ مونو گراف دراصل میڈیا اکیڈیمی تلنگانہ کی جانب سے شائع کی گئی ۔ واضح رہے کہ میڈیا اکیڈیمی تلنگانہ نے اپنے صدر مسٹر کے سرینواس ریڈی کی قیادت میں ریاست کے بلند پایہ صحافیوں کے بارے میں نئی نسل بالخصوص ابھرتے صحافیوں کو واقف کروانے کی خاطر مونو گراف سریز شروع کی ہے ۔ سیریز 1 کے تحت 10 مشہور و معروف صحافیوں کی مونو گراف یا مختصر سوانح حیات شائع کی گئی ہے۔ جن میں بانی روزنامہ سیاست جناب عابد علی خاں مرحوم کا نام سرفہرست ہے ۔ جب کہ دیگر 9 صحافیوں میں ڈی سیتارام ، بی ناگیشور راؤ ، پی وینکٹشور راؤ ، ایم ایس آچاریہ ، اے بی کے پرساد ، جی ایس وردھا چاری ، سی راگھو چاری ، وی ہنمنت راؤ اور آدی راجو وینکٹیشور راؤ شامل ہیں ۔ یہ مونو گراف صحافی ایم اے ماجد نے تحریر کیا ہے ۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ متحدہ آندھرا پردیش اور علحدہ ریاست تلنگانہ میں ترقی پسند تحریکات اور اردو صحافت کے فروغ میں روزنامہ سیاست نے اپنا اہم کردار نبھایا ہے ۔ اسی طرح متحدہ آندھرا پردیش میں صحافتی فروغ کے لیے صحافیوں کے دیرینہ مطالبہ پر حکومت نے پریس اکیڈیمی کے قیام کا اعلان کیا ۔ اس اکیڈیمی کے قیام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور بانی سیاست جناب عابد علی خاں کو اس کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا اور ان کی زیر قیادت کمیٹی کی سفارشات پر ہی حکومت نے پریس اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ میڈیا اکیڈیمی تلنگانہ کی اس تقریب میں صحافیوں کی کہکشاں موجود تھی جن میں جناب اصغر علی خاں اور جناب فخر علی خاں نے سیاست فیملی کی نمائندگی کی ۔ تقریب کی صدارت جی سیکھندر ریڈی صدر نشین قانون ساز کونسل نے کی ۔ کیشو راؤ نے اسپیشل گیسٹ کے طور پر شرکت کرتے ہوئے میڈیا اکیڈیمی تلنگانہ کو اپنے زریں مشوروں سے نوازا ۔ اس موقع پر انہوں نے مشورہ دیا کہ میڈیا اکیڈیمی کے لیے جوڈیشیل پاورس حاصل کریں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے میڈیا اکیڈیمی کی لائبریری یا کتب خانہ کو فروغ دینے کا بھی مشورہ دیا اور کہا کہ خود ان کے پاس ایک ہزار سے زائد نادر و نایاب کتابوں کا ذخیرہ ہے جو وہ میڈیا اکیڈیمی کی لائبریری کو بطور عطیہ پیش کردیں گے بعد میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ لائبریری میں اردو کتب کا بھی گوشہ ہو ۔ مسٹر جی سیکھندر ریڈی نے صحافیوں کو درپیش چیلنجس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحافی اپنے قلم کے ذریعہ ملک و قوم کی غیر معمولی خدمت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر 13 متوفی صحافیوں کے خاندانوں بشمول بیواؤں اور ماؤں میں فی کس ایک لاکھ روپئے کی امداد تقسیم کی ۔ TUWJF کی نمائندگی پر تین متوفی صحافیوں کے لواحقین کو بھی فی کس ایک لاکھ روپئے امداد حوالے کی گئی ساتھ ہی متوفی صحافیوں کے بیواؤں یا خاندانوں کو پنشن سرٹیفیکٹس بھی حوالے کئے گئے ۔ جس کے تحت 5 برسوں تک ماہانہ تین ہزار روپئے دئیے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ متوفی صحافیوں کے بچوں کی دسویں جماعت تک فیس بھی ادا کی جائے گی ۔ اس موقع پر محمد ریاض احمد اور ٹی یو ڈبلیو جے ایف کے سکریٹری جناب غوث مدنی بھی موجود تھے ۔ TUWJF کی نمائندگی پر محمد فیاض مرحوم کی والدہ محترمہ افضل بیگم ، عبدالوسیم کی بیوہ محترمہ زاہدہ بیگم ( اوٹکور نارائن پیٹ ) ، اور شیخ رمضان کی بیوہ شیخ نسیمہ ( کھمم ) کو ایک لاکھ روپئے کی امداد دی گئی ۔ تقریب میں شنکر گوڑ صدر ایچ یو جے بھی موجود تھے ۔۔