میڈیا کی زہرافشانی پر لگام کسنے کامعاملہ، سپریم کورٹ میں آج سماعت

   

اقلیتی اور اکثریتی برادریوں کو لڑانے کی کوشش ،مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر جمعیۃ علماء کا جواب داخل

نئی دہلی:مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر27 اگست کو سماعت ہوگی۔گذشتہ شام سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری فہرست میں یہ بات بتائی گئی۔جمعیۃ نے جہاں مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر جواب داخل کیا ہے وہیں اس نے گزشتہ جمعہ کو بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے تبلیغی جماعت کے بارے میں آنے والے فیصلے کو بھی منسلک کیا ہے ۔معاملے کی سماعت چیف جسٹس اے ایس بوبڈے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس وی رام سبرامنیم شامل ہیں کریں گے ۔جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے بحث کریں گے جبکہ ان کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکریتی چوبے و دیگر موجود رہیں گے ۔جمعیتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ گذشتہ سماعت پر سینئر ایڈوکیٹ دوشینت دوے نے عدالت کو بتایا تھا کہ تبلیغی مرکزکو بنیادبناکر پچھلے دنوں میڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم چلائی اس سے مسلمانوں کی نہ صرف یہ کہ سخت دلآزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے ۔