میڈیا کے خلاف ہتک آمیز ریمارک پر صحافیوں کی برہمی

   

ریاستی ٹرائبل گروکلا کے ڈپٹی سکریٹری پی لنگاریڈی کے بیان پر ریاستی وزیر لکشمن کمار نے صحافیوں سے معافی مانگی

شادنگر۔ 14؍ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ تلنگانہ اسٹیٹ ٹرائبل گْروکْلاز کے ڈپٹی سکریٹری (ایڈمن، لیگل) پی لنگا ریڈی نے الزام لگایا کہ میڈیا جان بوجھ کر سرکاری گْروکْلاز کے خلاف جھوٹی خبریں شائع کر رہا ہے۔ لنگا ریڈی نے میڈیا کو ہتک آمیز انداز میں نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میڈیا ادارے سازش کے تحت گْروکْلاز کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، کھانوں میں مکھیاں اور مچھر گرنے جیسی جھوٹی خبریں چھاپ کر حکومت کی بدنامی کر رہے ہیں۔ رنگا ریڈی ضلع شادنگر میں منعقدہ دو روزہ مصنوعی ذہانت (اے ائی) کے اختتامی اجلاس میں ریاستی ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی بہبود وزیر لکشمن کمار، مقامی ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر، اور متعلقہ شعبہ کی سرکاری سکریٹری کے۔ سیتا لکشمی شریک ہوئے۔ اس موقع پر لنگا ریڈی کی میڈیا مخالف سخت تقریر پر تلنگانہ ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن (ٹی ڈبلیو جے ایف) کے مقامی صحافیوں نے سخت احتجاج کیا۔ ٹی ڈبلیو جے ایف نے ایک پرچی لکھ کر اسٹیج پر بھیجی کہ یہ میڈیا کے متعلق الزام تراشی کا طریقہ درست نہیں۔ لیکن لنگا ریڈی نے پرچی پڑھنے کے بعد بھی اپنی بات واپس لینے کے بجائے دوبارہ وہی الفاظ دہرائے۔ اس پر جب سرکاری سکریٹری کے سیتا لکشمی تقریر کر رہی تھیں تو (ٹی ڈبلیو جے ایف) کے لیڈران و صحافی خواجہ پاشاہ ، سینئر صحافی لٹّوپلی موہن ریڈی، ڈیویژن صدر راگھویندر گوڑ، سری سیلم، نرسمہا ریڈی، بورگولا رمیش، رمیش، راکیش، پورن چندر، وشنو، 18 سرینواس ، چندرشیکھر اور دیگر صحافیوں نے اسٹیج کے قریب پہنچے اور مطالبہ کیا کہ ان ریمارکس کو فوراً واپس لیا جائے۔ پولیس بھی اس دوران وہاں پہنچ گئی۔ صحافیوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا پر دیے گئے یہ غلط ریمارکس واپس نہ لیے گئے تو اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس پر لنگا ریڈی اسٹیج سے نیچے اتر کر صحافیوں سے معافی مانگنے کی کوشش کی مگر کئی صحافی سخت برہم ہوگئے اور سخت الفاظ میں مذمت کی۔ صحافیوں نے کہا کہ یہ طریقہ درست نہیں، میڈیا پر الزام تراشی بند کرنی ہوگی۔ ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی بہبود کے وزیر لکشمن کمار نے لنگا ریڈی کے ریمارکس پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں درست نہیں، بدقسمتی کی بات ہے اور مجھے ان کی بیان بازی پر افسوس ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صحافی بھائی برا نہ مانیں، میں معافی مانگتا ہوں۔ وزیر نے کہا کہ صحافیوں کی جدوجہد کی بدولت ہی ریاست وجود میں آئی اور اْن ہی کی محنت سے عوام میں شعور پیدا ہوا، اسی لیے آج کانگریس کی حکومت بنی۔ صحافی اس سماج میں بہت اہم ہیں، حکومتیں اْن کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ وزیر نے کہا: “یہ تکلیف دہ واقعہ ہوا ہے، لیکن میں ایک وزیر کی حیثیت سے، ایک بھائی کی حیثیت سے معافی مانگتا ہوں۔” مقامی ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر نے بھی کہا کہ لنگا ریڈی نے شادنگر کے مقامی میڈیا کے خلاف کچھ نہیں کہا، بلکہ شاید دیگر علاقوں کی بات کر رہے ہوں گے، مگر پھر بھی اس طرح بولنا درست نہیں۔ وزیر، ایم ایل اے اور حکام کی معذرت کے بعد صحافی لیڈران مطمئن ہوگئے اور معاملہ ختم ہوگیا۔