میڈیکل نشستوں میں مقامی طلباسے ناانصافی

   

یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس سے ہائی کورٹ کی جواب طلبی
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے میڈیکل نشستوں میں داخلہ میں بے قاعدگیوں کی شکایات پر عبوری احکامات سے گریز کیا ۔ ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ جاریہ ایم بی بی ایس داخلوں میں دفعہ 371D اور صدارتی احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ میڈیکل کونسل ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی و جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے بعض امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت کی جس میں کہا گیا کہ موجودہ قواعد کی خلاف ورزی سے داخلے دیئے گئے ۔ عدالت نے درخواست گذاروں کو تیقن دیا کہ وہ اس کا جائزہ لے گی کہ کس طرح کم نشانات حاصل کرنے والوں کو زیادہ نشانات والوں پر ترجیح دی گئی ۔ عدالت نے کہا کہ داخلوں میں متاثر امیدواروں کو فریق بنایا جائے۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی 15 فیصد غیر محفوظ نشستوں پر داخلوں میں ناانصافی کی گئی ہے۔ قواعد کے مطابق 85 فیصد مقامی امیدواروں کو داخلہ دیا جانا چاہیئے لیکن کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی نے آندھرائی طلبہ کو داخلہ دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس سے اندرون دو ہفتے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کو 19 فروری تک ملتوی کردیا۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جے رامچندر راؤ نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ یونیورسٹی آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت موجود قواعد پر عمل کررہی ہے۔