ریاست میں جملہ 66 میڈیکل کالجس کارکرد۔ 2021-22 میں یہ تعداد محض 34 تھی
حیدرآباد 29 مارچ(سیاست نیوز) ملک میں میڈیکل کالجس کی تعداد میں تلنگانہ 5ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے اور گذشتہ 5برسوں میں میڈیکل کالجس اور نشستوں میں اضافہ کو ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ اترپردیش میڈیکل کالجس کی تعداد میں سرفہرست ہے جہاں 88 میڈیکل کالجس ہیں ۔ مہاراشٹرا دوسرے نمبر پر ہے جہاں میڈکل کالجس کی تعداد 85 ہے ۔ تیسرے نمبر پر 78 کالجس کے ساتھ ٹاملناڈو ہے جبکہ چوتھے نمبر پر72میڈیکل کالجس کے ساتھ کرناٹک ہے ۔ 66 میڈیکل کالجس کے ساتھ تلنگانہ پانچویں مقام پر ہے جہاں سال 2021-22 تعلیمی سال میں محض 34میڈکل کالجس تھے اور 2022-2023 میں یہ تعداد 43 ہوئی بعد ازاں اندرون ایک سال میڈیکل کالجس کی یہ تعداد 56 تک پہنچ گئی ۔ تعلیمی سال 2024-25 میں اضافہ کے بعد یہ 65 تک پہنچی اور تعلیمی سال 2025-26 میںمحض ایک کالج کے اضافہ کے بعد یہ تعداد 66 تک پہنچ چکی ہے۔ 66 میڈیکل کالجس پر ماہرین تعلیم کا کہناہے کہ چھوٹی ریاست میں اتنی تعداد میں میڈیکل کالجس کارنامہ ہے اور تلنگانہ میں میڈیکل کالجس کی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔ جملہ اگر ابتدائی 5ریاستوں کا جائزہ لیا جائے تو جنوبی ہند کی 3ریاستیں ان میں تیسرے ‘ چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں اس طرح جنوبی ہند کی 5کے منجملہ 3ریاستیں سب سے زیادہ میڈیکل کالجس کی ابتدائی 5کی فہرست میں شامل ہیں ۔ بتایا گیا کہ نیشنل میڈیکل کمیشن کو گذشتہ 5برسوں میں سب سے زیادہ نئے کالجس کی درخواستیں 2024-25 میں ملیں جن کی تعداد 112 تھی اوران میں کمیشن نے 74 نئے میڈیکل کالجس کے قیام کو منظوری دی تھی اس کے بعد 2025-26 میں 80 نئے میڈیکل کالجس کے قیام کیلئے درخواستیں ملی تھیں جن میں 43 نئے کالجس کے قیام کو منظوری دے دی گئی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ مرکز ملک میں ایم بی بی ایس کی نشستوں میں اضافہ کیلئے نئے میڈیکل کالجس کے قیام کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے لیکن شرائط کو سخت کرکے معیار تعلیم کی برقراری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔3