میڈیکل کی پی جی ڈپلومہ نشستوں پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

,

   

ہائی کورٹ کے احکامات پر روک، حکومت کو نوٹس کی اجرائی
حیدرآباد۔/16 مئی، ( سیاست نیوز) میڈیکل ایجوکیشن سے متعلق پی جی ڈپلومہ سیٹ سرینڈر کرکے پی جی ڈگری سیٹ کی اجازت حاصل کرنے سے متعلق کوششوں پر تلنگانہ ہائیکورٹ نے روک لگادی تھی۔ سپریم کورٹ نے آج تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کرکے فریقین کو نوٹس جاری کی ہے۔ کامینینی میڈیکل کالج ، اے این آر میڈیکل کالج اور پرتیما میڈیکل کالج کی جانب سے سینئر کونسل کے وی وشوانادھن اور اے رمیش نے دلائل پیش کئے۔ جسٹس موہن، شانتا ناگڈر اور جسٹس آر سبھاش ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت کی۔ میڈیکل کونسل کی جانب سے 12 جولائی 2018 کو دی گئی اجازت کے ذریعہ تلنگانہ میں بعض سرکاری اور خانگی کالجس نے 18 پی جی ڈپلومہ سیٹ سرینڈر کرتے ہوئے اُن کی جگہ پی جی ڈگری نشستوں کی اجازت حاصل کی تھی۔ ایم بی بی ایس کی تکمیل کے بعد دیہی علاقوں میں خدمت انجام دینے والے ایک امیدوار نے پی جی ڈپلومہ سے محرومی کی شکایت کرتے ہوئے گزشتہ ماہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ پی جی ڈپلومہ سیٹس کو پی جی ڈگری سیٹس میں تبدیل کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گذار نے شکایت کی کہ اس فیصلہ سے نمس، بسواتارکم اور دیگر کالجس میں ریڈیالوجی کی نشستیں دستیاب نہیں ہیں۔ تلنگانہ حکومت، محکمہ صحت، نمس، بسوارتارکم اور دیگر میڈیکل کالجس کو مقدمہ میں فریق بنایا گیا۔ ہائی کورٹ نے نشستوں کی اس تبدیلی پر روک لگاتے ہوئے احکامات جاری کئے۔ سپریم کورٹ سے اس مسئلہ کو رجوع کرتے ہوئے درخواست گذاروں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کی جانب سے سماعت کی گئی درخواست میں فریق نہیں ہیں اور نشستوں کی تبدیلی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کرکے آئندہ سماعت یکم جون کو مقرر کی ہے۔