میکرون ، اِسلام اور مسلمانوں پر رکیک حملوں سے باز نہیں آتے

,

   

ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں سے پرانا حساب چکانے کی فکر : صدرترکی اُردغان

انقرہ : صدر ترکی رجب طیب اردغان نے صدر فرانس ایمانیول میکرون کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان (میکرون) کے اسلام میں اصلاحات متعارف کروانے کے مشورہ کو مسترد کردیا اور یہ بھی کہا کہ میکرون موجودہ بحرانوں کو ترکی پر تنقید کرنے کا ایک موقع تصور کرتے ہیں اور اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسلام پر رکیک حملے کرنے سے باز نہیں آتے۔ اردغان نے مزید کہا کہ میکرون کو نہ جانے اسلام اور مسلمانوں سے کیا بغض و دشمنی ہے وہ کسی نہ کسی بہانے اسلام اور مسلمانوں سے کوئی پرانا حساب چکانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسلام کے عروج سے پریشان ہیں اور بوکھلاگئے ہیں، وہی لوگ آج کے پیدا کردہ مسائل کے ذمہ دار ہیں اور مسائل کو بہانا بناکر اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مغربی سیاست دانوں کیلئے اسلام پر حملہ آور ہونا یا اس کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنا ایک مرغوب مشغلہ بن گیا ہے جسے وہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے وہ خود اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ صدر فرانس میکرون نے گزشتہ ہفتہ ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اسلامی علیحدگی پسند‘‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ اسلامی قوانین کو جمہوری قوانین سے بالاتر سمجھا جارہا ہے اور اسی نظریہ نے مسائل پیدا کئے ہیں۔ 2 اکتوبر کو میکرون نے فرانس میں ایک نئے بل کو متعارف کیا تھا جس سے مذہبی علامات پر پابندی کی راہ ہموار کی گئی تھی اور خاص طور پر مسلم خواتین کے برقعہ اور حجاب کو مدنظر رکھتے ہوئے بل متعارف کیا گیا تھا تاکہ مسلم خواتین ان کا استعمال ترک کردیں۔

علاوہ ازیں اسکولوں کے کینٹین میں ’’مذہبی مینو‘‘ (پکوان کے اقسام) کے علاوہ خانگی شعبوں میں مسلمان ملازمین کو دی جانے والی رعایتوں پر پابندی بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں قومی نصاب سے ہٹ کر دیگر مذہبی نصاب کو گھروں میں پڑھائے جانے پر بھی پابندی عائد کرنے کیلئے بل متعارف کیا گیا تھا۔ جاریہ ماہ کے اواخر تک مجوزہ بل پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے بھیجا جائے گا۔ میکرون کے بیان (تقریر) پر فرانسیسی مسلمان برہم ہوئے تھے۔ انہیں یہ خوف ہے کہ اگر اس بل کو منظور کرلیا گیا تو فرانس میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق سلب کرلئے جائیں گے حالانکہ فرانس میں کچھ غیرسرکاری تنظیموں (NGOs) نے اس بل کی مخالفت کی ہے کیونکہ ان کے مطابق اس نوعیت کے بل (اور قانون سازی) سے ملک کے اقدار کو ٹھیس پہنچے گی۔