میگرنٹ ورکرس کی شہروں کو واپسی کا عمل شروع

   

اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ورکرس کی کثیر تعداد حیدرآباد واپس
شہر اور دیگر علاقوں میں تعمیری و دیگر سرگرمیاں بحال
حیدرآباد: ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد حالات معمول پر آنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور جو مزدور شہری علاقوں سے اپنے موضعات واپس ہوچکے تھے اب دوبارہ شہروں کا رخ کرنے لگے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں اوڈیشہ اور بنگال سے تعلق رکھنے والے جو مزدور اپنے اپنے مقامات کو واپس ہوچکے تھے تقریباً5 ماہ بعد اب شہر واپس ہونے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ مزدوروں کی شہر واپسی کے بعد شہر میں تعمیری سرگرمیوں کے علاوہ دیگر سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں لیکن مزدوروں کولاک ڈاؤن سے قبل جو یومیہ مزدوری ملا کرتی تھی اس میں 25تا40 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے کیونکہ آجرین کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد حالات معمول پر نہیں آئے ہیں اور اب جبکہ مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے تو ایسی صورت میں کم قیمت میں مزدور دستیاب ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا ہے اسی لئے مزدوری میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ لاک ڈاؤن کے نقصانات کی پابجائی کے علاوہ زیادہ سے زیادہ مزدوروں کو روزگار فراہم کیاجاسکے ۔ بنگال اور اوڈیشہ کے علاوہ آسام سے تعلق رکھنے والے ایسے مزدور جو کہ یومیہ اجرت پر انحصار کرتے ہیں وہ شہر کی طرف لوٹ رہے ہیں لیکن ان کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ ان میں اضافہ ہی ریکارڈ کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے ان مزدورو ںکو مسائل کا سامنا ہے۔ مزدوروں کو یومیہ اجرت کے معاملہ میں جہاں تعمیری شعبہ اہم ہے وہیں ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر بھی یومیہ اجرت پر کام دیا جاتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوںمیں جہاں بڑے بلڈرس تعمیری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان کے پاس مزدوروں کے ذریعہ کام کروانے والے کنٹراکٹرس موجود ہیں جو کہ کم اجرت پر مزدور حاصل کرتے ہوئے یومیہ اجرت پر فراہم کرنے لگے ہیں جبکہ ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر جہاں یومیہ اجرت پر کام دیا جاتا ہے ان مقامات پر بھی تجارتی سرگرمیاں بحال نہ ہونے کے سبب 25تا40 فیصد کم اجرت پر کام دیا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے شہر حیدرآباد میں کام کرنے والے مزدور مشکلات سے دو چار ہیں۔