آخری اوور میں 12رنز کا دفاع ایشانت کا کارنامہ
احمد آباد ۔ آئی پی ایل 2023 میں گجرات ٹائٹنزکے خلاف اپنی شاندار بیٹنگ کے بعد، دہلی کیپٹلز (ڈی سی) کے آل راؤنڈر امان حکیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس موقع کو استعمال کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے جب ان کی ٹیم ساتھی مچل مارش کھیل سے پہلے بیمار ہوگئے۔جس وقت دہلی 23/5 رنز پر نازک صورت حال سے پریشان تھی تو امان خان نے بیٹنگ کرتے ہوئے 44 گیندوں پر51 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو ایک نازک صورتحال سے نکالنے کی قیادت کی ۔ ٹائٹنز کے خلاف دہلی نے امان کی اس اننگز کے بعد اپنے 20 اوورز میں 130/8 کا اسکور بنایا ۔26 سالہ کھلاڑی نے کھیل سے چند گھنٹے قبل پلیئنگ الیون میں جگہ حاصل کی اور اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی کارکردگی سے متاثر کیا۔ میں 30 گیندوں پر100 پر بیٹنگ کرنے کے ذہن سے میدان میں اترا ۔ میں زیادہ نہیں سوچ رہا تھا اور نہ ہی میرے اعتماد میں کمی تھی لیکن پچھلے میچ میں جو میں نے حیدرآباد میں کھیلا تھا وہاں مشکل رہی۔ اسی طرح کی صورتحال وہاں بھی تھی اور میں نے اپنی وکٹ گنوادی تھی ، واقعی میں اپنے آپ سے مایوس تھا اور میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مجھے ایسا ہی ایک اور موقع مل جائے تو میں خود کو ثابت کروں گا ۔ خان نے میچ کے بعد کہا کہ دراصل آج میں ٹیم کا حصہ نہیں تھا لیکن مچل مارش بیمار ہوگئے، اس لیے میں ٹیم میں آیا اور میں نے صرف موقع کے بارے میں سوچا کہ میں کسی بھی قیمت پر اپنے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔اپنی اننگز کے بارے میں بات کرتے ہوئے خان نے کہا کہ وہ عام طور پر جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں کیونکہ ٹیم پہلے ہی بہت سی وکٹیں گنوا چکی تھی وکٹ تھوڑی چپکی ہوئی تھی، حریف اسپنرز نے بہت اچھی بولنگ کی ہے۔ میرے لیے بیٹنگ کرنا آسان تھا کیونکہ ہم پہلے ہی بہت سی وکٹیں گنوا چکے تھے، اس لیے میں صرف عام طور پرجارحانہ بیٹنگ کرنا چاہتا تھا۔ اس وکٹ پر بڑے شاٹس مارنا واقعی مشکل تھا۔ وکٹ اور اس بولنگ اٹیک کے ساتھ تیز رفتار بیٹنگ آسان نہیں تھی ۔کم اسکور کے باوجود ایشانت شرما (2/23) کی قیادت میں ڈی سی بولروںکی شاندار اجتماعی بولنگ نے ٹیم کو 130 کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا جب ایشانت نے ایک اور سنسنی خیز مقابلے میں آخری اوور میں 12 کا دفاع کرنے کے لیے اپنے اعصاب پر قابو پایا۔ایشانت نے صرف چھ رنز دیے اور آخری اوور میں راہل تیوتیا کا وکٹ بھی لیا جو مقابلے کا نقشہ اپنے ٹیم کے حق میں کرچکے تھے ۔ ایشانت کی شاندار بولنگ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے خان نے کہا یہ ایک اجتماعی کوشش ہے، لیکن ایشانت شرما نے جو آخری اوورکیا، وہ بہت پراعتماد نظر آئے۔ اس میچ کو جیتنے کا بہت سا سہرا انہیں جاتا ہے کیونکہ جس طرح راہول تیوتیا بیٹنگ کر رہے تھے اور دوسرے سرے پر نصف سنچری کے ساتھ ہاردک پانڈیا موجود تھے تو مقابلہ جیتا مشکل ترین تھا… اور آپ جانتے ہیں کہ راشد خان کیا کر سکتے ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود آخری اوور میں 12 رنز کا دفاع کرنا یقیناً ایشانت شرما کا کارنامہ ہے۔
حیدرآباد کا آج کولکتہ سے مقابلہ
حیدرآباد۔ سن رائزرس حیدرآباد جمعرات کو یہاں انڈین پریمیئر لیگ میچ میںکولکتہ نائٹ رائیڈرزکی میزبانی کرتے ہوئے اپنے ٹاپ آرڈر سے مزید مستقل مزاجی کی توقع کرے گا۔ دونوں ٹیمیں جدولکے نچلے حصے میں ہیں ایک اورشکست ان کے پلے آف میں رسائی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچائے گی۔