میں بے گناہ اور شریف انسان ہوں:صدر نکولس مادورو

,

   

Ferty9 Clinic

امریکی عدالت میں ونیزویلا کے لیڈر کا منشیات اور دہشت گردی کے الزامات قبول کرنے سے انکار
نیویارک، 6 جنوری (یو این آئی) وینزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے عدالت میں پیشی کے موقع پر اپنے اوپر عائد تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بے گناہ اور شریف انسان ہوں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں نارکو ٹیررازم (منشیات اور دہشت گردی ) سے متعلق الزامات پر جرم قبول کرنے سے انکار کردیا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہواکہ وینزوئیلا کے صدر کسی امریکی عدالت میں پیش ہوئے ہوں۔ مادورو کو جیل یونیفارم میں عدالت لایا گیا، جہاں ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ سیلیا فلورس بھی موجود تھیں۔ دونوں شخصیات نے عدالتی کارروائی کو انگریزی سے ہسپانوی زبان میں ترجمہ سننے کے لیے ہیڈ فونز استعمال کیے ۔ عدالت کی جانب سے استفسار پر وینزوئیلا کے صدر مادورو نے کہا کہ میں بے گناہ، شریف انسان اور اب بھی صدر ہوں۔ عدالت نے مادورو کو مقدمے کی اگلی سماعت 17 مارچ تک تحویل میں رکھنے کا حکم دے دیا۔ جب ان سے فردِ جرم کے مطالعے سے متعلق سوال کیا گیا تو مادورو نے کہا کہ انہوں نے دستاویز دیکھی ضرور ہے مگر مکمل طور پر نہیں پڑھی۔ انہوں نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ وہ کسی بھی الزام کے مرتکب نہیں۔ واضح رہے کہ نکولس مادورو اور وینزوئیلا کے دیگر اعلیٰ حکام پر سال 2020 میں نارکو ٹیررازم کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے تھے ۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق نارکو ٹیررازم سے مراد دہشت گرد تنظیموں اور باغی گروہوں کا منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونا ہے ۔ امریکی محکمۂ انصاف نے مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف نئی فردِ جرم جاری کی، جس میں ان پر منشیات اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بطور ملزم نکولس مادورو کو امریکی عدالتی نظام میں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو کسی بھی عام ملزم کو دیے جاتے ہیں، جن میں نیویارک کے عام شہریوں پر مشتمل جیوری کے سامنے مقدمے کی سماعت کا حق بھی شامل ہے ۔ مادورو کے وکلا کی جانب سے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے اور یہ مؤقف اختیار کیے جانے کا امکان ہے کہ وہ بطور سربراہِ مملکت قانونی استثنیٰ رکھتے ہیں اور ان پر امریکا میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ علاوہ ازیں نیویارک کی عدالت نے 17 مارچ کو مادورو کو دوبارہ پیش کرنے اور سماعت کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ امریکی حکام نے مادورو پر نارکو ٹیررازم، بڑے پیمانے پر کوکین اسمگلنگ اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں جن کے تحت آج عدالت میں کارروائی شروع ہوئی تھی۔

امریکہ نے وینزوئیلا میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی: اقوام متحدہ
نیویارک، 6 جنوری (یو این آئی) وینزوئیلا کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کہا گیا کہ وینزوئیلا کے خلاف امریکی کارروائی میں عالمی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وینزوئیلا میں امریکہ کی فوجی کارروائی غیر قانونی ہے ۔ اجلاس میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے ایک بیان پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ وینزوئیلا کے صدر اور ان کی اہلیہ امریکی تحویل میں ہیں، تمام فریق اقوام متحدہ چارٹر کی پاسداری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی ضروری ہے ۔

امریکہ وینزوئیلا کیساتھ حالت جنگ میں نہیں:ٹرمپ
واشنگٹن،6 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ وینزوئیلا کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں۔ ہم منشیات فروشوں کے خلاف جنگ میں ہیں۔ این بی سی نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا امریکی فوج دوبارہ وینزویلا بھیجنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت نہیں، وینزوئیلا میں اگلے 30 دن کے دوران نئے الیکشن نہیں ہوں گے ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم وہاں فوری انتخابات نہیں کراسکتے کیونکہ اس وقت عوام کیلئے ووٹ ڈالنا ممکن نہیں۔ ہمیں پہلے ملک کو دوبارہ سنبھالنا ہوگا اور اس میں وقت لگے گا۔