میں جس بی جے پی کا حصہ تھا اس میں داخلی جمہوریت تھی لیکن اب۔۔۔۔۔ : یشونت سنہا

   

نئی دہلی:صدارتی انتخابات کے لیے اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا نے پیر کو اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شام کو پریس کانفرنس کرکے اپنی بات رکھی۔ سنہا نے کہا کہ جس بی جے پی کا میں حصہ تھا اس میں داخلی جمہوریت تھی، جس کی موجودہ بی جے پی میں کمی ہے۔ علامتی سیاست قبول نہیں، ماضی میں کیے گئے کاموں کی بات کریں گے۔ میں صدارتی انتخاب میں حمایت کے لیے اپنے پرانے بی جے پی ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ صدارتی انتخاب آمرانہ طاقت کے نظریے اور اس سے آزادی کی لڑائی ہے صدر کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا کا ملک گیر دورہ منگل سے شروع ہوگا۔ سنہا نے کہا، میں اپوزیشن پارٹیوں کا شکر گزار ہوں جو ایک ساتھ آئیں۔ صدارتی امیدوار نے میرا انتخاب کیا، مجھے بتایا جا رہا ہے کہ میں چوتھا انتخاب ہوں۔ اگر میں دسویں نمبر پر ہوتا تو بھی میں اس لڑائی کو قبول کرتا اور اس میں تعاون کرتا سنہا نے کہا، یہ دو افراد کی لڑائی نہیں ہے۔ یہ پوسٹ وقار کی علامت ہے۔ میرے نام کا اعلان پہلے کیا گیا تھا۔ حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ بس رسمی کارروائی مکمل کی سنہا نے کہا، صدر وہ نہیں بننا چاہیے جو حکومت کے قبضے میں ہو۔ صدر کو صرف ربڑ سٹیمپ نہیں بننا چاہیے بلکہ اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ ملک میں جمہوریت مفلوج ہو چکی ہے۔ حکومت ملک کی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ایک بڑے لیڈر سے 50 گھنٹے تفتیش ہو رہی ہے۔ مقصد تفتیش کرنا نہیں بلکہ ذلیل کرنا ہے۔