نیویارک ۔ 9 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جلا وطن سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی سے فوری ملاقات کے امکان پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور اس حوالے سے کسی با ضابطہ سفارتی قدم سے قبل انتظار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ چہارشنبہ کی شام ایک صحافتی بیان میں سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے سے ملاقات کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ رضا پہلوی کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے انھیں ایک ‘‘اچھا شخص’’ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بطور امریکی صدر وہ اس مرحلے پر ایسی ملاقات کو موزوں نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایرانی عوام کی خواہشات کی نمائندگی کرنے والا رہنما کون ابھر کر سامنے آتا ہے، اس لیے اس معاملے میں جلد بازی مناسب نہیں۔یہ محتاط سفارتی موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران دسمبر کے اواخر سے شدید احتجاجی لہر کی لپیٹ میں ہے، جس کی بنیادی وجہ ملکی کرنسی کی تاریخی گراوٹ ہے۔ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر 14 لاکھ ریال سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس شدید معاشی بحران کے نتیجے میں غیر معمولی مہنگائی نے جنم لیا۔ اس سے تہران اور اصفہان و شیراز جیسے بڑے شہروں میں تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں، جبکہ مالیاتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً ’’بڑے بازار‘‘ میں دکانوں کی وسیع پیمانے پر بندش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ زمینی صورتحال کے حوالے سے انسانی حقوق کی رپورٹس میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ احتجاجات کے آغاز سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مظاہروں کے دوران نعرے صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی سطح تک پہنچ گئے، جہاں مظاہرین نے بادشاہت کی بحالی اور رضا پہلوی کی حمایت میں نعرے لگائے۔