تل ابیب،20مارچ (یو این آئی) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو منظر عام پر آ گئے اور لائیو پریس کانفرنس میں کہا کہ میں زندہ ہوں۔ ایران جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کئی روز سے منظر عام سے غائب تھے ، جس کے بعد ان کی موت کی افواہوں نے جنم لیا۔ ان افواہوں کو اس وقت تقویت ملی، جب اسرائیل کے آفیشل چینل سے نیتن یاہو کی کئی روز تک کوئی ویڈیو جاری نہیں کی گئی جبکہ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں مشکوک مناظر کے بعد
انہیں فیک ویڈیو کہا گیا۔ تاہم گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم منظر عام پر آ گئے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نے منظر عام پر آنے کے بعد لائیو پریس کانفرنس کی اور اس میں کہا کہ سب سے پہلے تو میں سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں۔
نیتن یاہو نے ایران جنگ میں اہداف، مقاصد اور حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 20 دن کی لڑائی کے بعد ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر اس کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بڑا نقصان پہنچا ہے ۔ ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑی حد تک تباہ کیا جا رہا ہے اور انھیں مکمل طور پر ختم کرکے دم لیا جائے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے ۔ نیتن یاہو نے ایران میں زمینی کارروائی کا امکان ظاہر کیا اور کہا کہ ایران میں حکومت یا کسی بھی تبدیلی کیلئے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی سطح پر بھی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ تاہم وہ اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔
نیتن یاہو کا حضرت عیسیٰ ؑسے متعلق متنازعہ بیان
تل ابیب۔ 20 مارچ (ایجنسیز) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ایک مبینہ بیان نے عالمی سطح پر شدید تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے حوالے سے چنگیز خان سے موازنہ کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور مذہبی رہنماؤں نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔مسیحی برادری نے اس بیان کو انتہائی توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یسوع مسیح محبت، امن اور رواداری کی علامت ہیں، اور ان کا موازنہ ایک تاریخی فاتح چنگیز خان سے کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔دوسری جانب مسلم دنیا سے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں حضرت عیسیٰ ؑ کو ایک جلیل القدر پیغمبر کے طور پر انتہائی احترام حاصل ہے۔ متعدد اسلامی ممالک اور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بیان کی وضاحت کی جائے اور مذہبی شخصیات کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے حساس بیانات نہ صرف بین المذاہب تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی برادری پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ مذہبی اقدار کے احترام کو فروغ دے اور نفرت انگیز یا اشتعال انگیز بیانات کی حوصلہ شکنی کرے۔واضح رہے کہ ایسے بیانات ماضی میں بھی شدید ردِعمل کا سبب بنتے رہے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی امن و استحکام کیلئے مذہبی شخصیات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔