’میں لکھ کر دے رہا ہوں کہ مودی حکومت اب نہیں آئے گی‘: ستیہ پال ملک

   

O جموں و کشمیر میںطاقت یا فوج سے نہیں لوگوں کو جیت کر سب کچھ ٹھیک کیا جا سکتا ہے
O کانگریس قائدراہول گاندھی کی سابق گورنر کے ساتھ مختلف امور پر خاص بات چیت

نئی دہلی :کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے سابق گورنر ستیہ پال ملک کا انٹرویو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کیا اس بات چیت سے ای ڈی اورسی بی آئی کی دوڑ میں اضافہ ہوگا؟ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کا انٹرویو کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کسانوں کی تحریک اور پلوامہ حملے سمیت کئی مسائل پر بات کی اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔اس گفتگو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کرتے ہوئے راہول گاندھی نے لکھا کہ کیا یہ بات چیت ای ڈی اورسی بی آئی کی دوڑ میں اضافہ کرے گی؟‘‘ راہول گاندھی سے بات چیت کے دوران ستیہ پال ملک نے کہا کہ میں لکھ کر دے رہا ہوں کہ مودی حکومت اب نہیں آئے گی۔راہول گاندھی نے سوال کیا کہ جب آپ (ستیہ پال ملک) جموں و کشمیر میں تھے تو وہ بہت پیچیدہ وقت تھا۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ستیہ پال ملک نے کہا کہ آپ جموں و کشمیر کو طاقت یا فوج سے ٹھیک نہیں کر سکتے۔ آپ یہاں کے لوگوں کو جیت کر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ مسئلہ حل کرنے کیلئے پہلے ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے غالباً جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری کا درجہ دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پولیس بغاوت کر دے گی۔ لیکن پولیس حکومت کی وفادار رہی ہے۔ انہوں نے (پولیس نے) عید کے مہینے میں چھٹی بھی نہیں کی۔ ایسے میں ریاست کا درجہ دے کر انتخابات کرائے جائیں۔ اس پر راہول گاندھی نے کہا کہ جب میں جموں و کشمیر گیا تو مجھے بھی لگا کہ لوگ ریاست کا درجہ چھینے جانے سے خوش نہیں ہیں۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب میں نے ان سے (مرکزی حکومت) کو ریاست کا درجہ دینے کو کہا تو انہوں نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کے بارے میں ستیہ پال ملک نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے (مرکزی حکومت) یہ کیا، لیکن پلوامہ میں انہوں نے اسے نظر انداز کیا اور پھر اس کا سیاسی استعمال کیا۔ وہ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ ان کی اس تعلق سے تقریر ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ووٹ ڈالنے جائیں تو پلوامہ کی شہادت کو یاد رکھیں۔اس پر راہول گاندھی نے کہا کہ جب انہوں نے پلوامہ کے بارے میں سنا تو انہیں پتہ چلا کہ شہید ایئرپورٹ پر آ رہے ہیں، تب میری سیکورٹی نے مجھ سے کہا کہ ایئرپورٹ نہ جاؤ، لیکن میں نے کہا کہ میں جا رہا ہوں۔ مجھے ایئرپورٹ پر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا۔ جب میں لڑا اور کمرے سے باہر آیا تو مجھے لگا کہ پورا شو کیا جا رہا ہے۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو سری نگر جانا چاہیے تھا۔ستیہ پال ملک نے یہ بھی کہا کہ پلوامہ میں سی آر پی ایف کے سپاہی اس لیے شہید ہوئے کیونکہ انہوں نے پانچ طیارے مانگے تھے جو نہیں ملے۔ طیارہ طلب کرنے کی درخواست وزارت داخلہ میں چار ماہ تک پھنسی رہی۔ وزارت داخلہ نے اسے مسترد کر دیا۔ اس وجہ سے یہ لوگ سڑک چھوڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد پاکستان سے آیا تھا۔