میں نے کالا پانی دیکھا

   

حیدرآبادی مجاہد آزادی مولوی علاء الدین نظر نہیں آئے
سیلولر جیل کا دورہ اور آزادی کی ایک مشترکہ مگر نامکمل کہانی

محمد نعیم وجاہت

برطانوی سامراج کے دور میں ہندوستانی مجاہدین آزادی کو خاموشی سے ختم کرنے کے لئے جس بدترین قید خانے کا استعمال کیا گیا وہ تھی انڈومان نکوبار کی سیلولر جیل جسے عام طور پر ’’کالا پانی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جیل صرف ایک عمارت نہیں بلکہ قربانی، صبر، استقامت اور آزادی کی قیمت کی علامت ہے۔ انڈومان نکوبار کی سیلولر جیل کا میرا حالیہ دورہ محض ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا۔ جیسے ہی میں اس تاریخی احاطہ میں داخل ہوا، یوں محسوس ہوا کہ یہ جگہ صرف اینٹ اور پتھر کی بنی عمارت نہیں بلکہ آزادی ہند کی جدوجہد سے جڑی ہزاروں کہانیوں کی امین ہے۔ لمبی راہداریوں، بند سیلوں اور خاموش فضاؤں کے درمیان چلتے ہوئے یہ احساس بار بار اُبھرتا رہا کہ یہاں قید کئے گئے لوگوں کی قربانیاں آج بھی دیواروں میں ثبت اور اس کی بنیادوں کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ سیلولر جیل کی تعمیر 1896ء میں شروع ہوئی اور 1906ء میں مکمل ہوئی۔ اسے خاص طور پر اُن مجاہدین کیلئے بنایا گیا تھا جو برطانوی حکومت کے خلاف انقلابی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ جیل میں 698 سیل ہیں، ہر قیدی کو تنہا رکھا جاتا تھا۔ قیدیوں کا آپس میں بات کرنا سخت ممنوع تھا۔ اس تنہائی کا مقصد ذہنی، روحانی اور جسمانی توڑ پھوڑ تھا۔ تقریباً 80 ہزار سے زائد مجاہدین کو مختلف ادوار میں کالا پانی بھیجا گیا۔ ان میں سے ہزاروں قیدی جیل میں شہید ہوگئے۔ سینکڑوں نے ناقابل برداشت تشدد کے باعث ذہنی توازن کھودیا۔ مگر سیلولر جیل کے میوزیم، لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو اور سرکاری ریکارڈ میں اگر صرف ایک نظریہ کو دکھایا جائے اور باقی قربانیوں پر خاموشی اختیار کی جائے تو یہ تاریخ نہیں بلکہ تشہیر بن جاتی ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کے بشمول تمام مذاہب اور طبقات کے مجاہدین نے حصہ لیا جنھوں نے کالا پانی میں زندگیاں کھپادیں۔ آج کسی تختی کسی شو کسی گائیڈ کے الفاظ میں موجود نہیں ہے۔ تاہم سیلولر جیل کے میوزیم، تصویری گیلری اور لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو میں ایک نام بار بار اور نمایاں طور پر سامنے آتا ہے وہ ہے وی ڈی ساورکر۔ ان کے سیل کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ تختیاں ہیں، حوالہ جاتی بورڈ ہیں اور سارا ریکارڈ اسی ایک محور کے گرد گھومتا ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ساور کر نے انگریزوں سے معذرت خواہی کی اور انھیں برطانوی سامراج نے 1924-1937 ء ماہانہ 60 روپئے الاؤنس بھی منظور کیا تھا جبکہ دوسرے مجاہدین آزادی معافی نامہ دینے کے بجائے سخت سے سخت سزاؤں کو جھیلنا مناسب سمجھا مگر انگریزوں کے سامنے جھکے نہیں۔ میں نے سیلولر جیل کے سارے احاطہ میں گھوم کر ایک ایک تختی ایک ایک نام غور سے دیکھا لیکن مسلم قیدیوں کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق جملہ تمام قیدیوں میں 20 تا 25 فیصد مسلم قیدی بھی شامل تھے۔ لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو میں صرف ایک مسلم قیدی شیر علی آفریدی کا نام ہے۔ یہ خاموش اتفاق نہیں ہے یہ ایک منتخب کالا پانی میں اذیتیں سب کے لئے یکساں تھیں، سب کو بیڑیوں میں جکڑا گیا، سب سے بیلوں کی طرح کولہو چلوایا گیا، سب کو تنہائی میں توڑا گیا۔ اذیت دیتے وقت مذہب نہیں پوچھا گیا۔ مگر تاریخ لکھتے وقت مذہب اور نظریہ ضرور دیکھا گیا۔ لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو تکنیکی طور پر شاندار ہے۔ آواز، روشنی، موسیقی سب کچھ متاثر کن ہے مگر مواد ایک مخصوص نظریہ، چند منتخب نام اور باقی سب پر خاموشی۔ یہ شو اگر نئی نسل کے لئے واحد ماحذ بنے گا تو وہ یہی سمجھے گی کہ آزادی چند لوگوں نے دلائی باقی تماشائی تھے۔ سیلولر جیل سے نکلتے وقت میرے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا کیا ہم تاریخ دیکھ رہے ہیں یا ہمیں تاریخ دکھائی جارہی ہے۔ اگر مسلم مجاہدین، دکنی نوجوانوں اور گمنام قیدیوں کو اس تاریخی ریکارڈ سے نکال دیا جائے تو یہ آزادی کی تاریخ نہیں بلکہ ادھوری کہانی رہ جاتی ہے۔
تاریخی حوالوں کے مطابق سیلولر جیل کے اوّلین مسلم قیدی مولوی علاؤالدین حیدر تھے جن کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا۔ وہ مکہ مسجد حیدرآباد کے امام رہے۔ ساتھ ہی ایک معروف مبلغ اور مذہبی رہنما تھے۔ برطانوی حکومت کی پالیسیوں کے ناقد سمجھے جاتے تھے، انھیں سیاسی سرگرمیوں کے الزام میں انڈومان بھیجا گیا مگر آج سیلولر جیل کے موجودہ ریکارڈ میں ان کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے، ان کی شہادت بھی اسی سیلول جیل میں ہوئی۔ شیر علی آفریدی وہ انقلابی تھے جنھوں نے انڈومان ہی میں برطانوی وائسرائے لارڈ میو کو قتل کیا۔ یہ واقعہ برطانوی راج کے لئے شدید صدمہ کا باعث بنا اور اس کے بعد سیلولر جیل میں سختیاں مزید بڑھادی گئیں۔ یہ ایک تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہے مگر شیر علی کا کردار میوزیم اور لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو میں محدود طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ ان کے محرکات اور پس منظر پر تفصیلی روشنی نہیں ڈالی جاتی۔ مولانا فضل حق خیرآبادی اُن عظیم علماء میں شامل تھے جنھوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ یہی فتویٰ برطانوی حکومت کے لئے ناقابل قبول تھا جس کے نتیجہ میں اُنھیں سخت مقدمات میں پھنسایا گیا اور بالآخر کالا پانی کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اُن چند علماء میں شامل تھے جنھوں نے قید و بند کے باوجود فکری مزاحمت جاری رکھی۔ سیلولر جیل میں قید رہنے والے مسلم قیدی اور مجاہدین کی فہرست طویل ہے مگر جن کا ذکر کم ہوتا ہے۔ اس فہرست میں مولوی عبدالرحیم، مولانا احمد اللہ شاہ، عبدالغفار، حشمت داد خان۔ یہ تمام مجاہدین مختلف سیاسی و انقلابی سرگرمیوں سے وابستہ تھے جو برطانوی حکومت کی نظر میں ’’سیاسی مجرم‘‘ تھے اور سخت ترین سزاؤں سے گزرے تاہم ان کے نام گمنامی میں چلے گئے۔ سیلولر جیل کے موجودہ میوزیم میں بعض شخصیات کو نمایاں مقام دیا گیا ہے جو اپنی جگہ تاریخی حقیقت ہے۔ اس کے ساتھ تاریخی دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ بعض قیدیوں نے دوران قید برطانوی حکومت کو درخواستیں پیش کیں اور بعدازاں انھیں سرکاری مراعات بھی حاصل ہوئے۔ یہ معلومات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ جن لوگوں نے سخت ترین اذیتیں برداشت کیں اور کسی رعایت کے طلب گار نہ رہے اُن کا ذکر بھی کیا اسی توازن کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے؟ یہ سوال کسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ تاریخی شمولیت کے حق میں ہے۔ سیلولر جیل میں تمام سیاسی قیدیوں کو سخت مشقت، طویل تنہائی، ناکافی خوراک، جسمانی و ذہنی دباؤ جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک ایسی مشترکہ تکلیف تھی جس میں مذہب یا علاقہ کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔ جب میں سیلولر جیل کا دورہ کرکے واپس ہوا تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کررہا تھا، آزادی کی جدوجہد ایک فرد یا طبقے کی نہیں تھی بلکہ مختلف خطوں، زبانوں اور پس منظر رکھنے والے لوگوں کی مشترکہ کوشش تھی۔ اگر کچھ نام آج کم نظر آتے ہیں تو انھیں سامنے لانا تاریخی کو مکمل کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہ سفر نامہ کسی شخصیت یا نظریے کی نفی نہیں بلکہ ایک آنکھوں دیکھے مشاہدے اور مطالعہ پر مبنی تحریر ہے۔ سیلولر جیسے قومی ورثے میں اگر تمام قربانیوں کو ان کی وسعت کے ساتھ پیش کیا جائے تو یہ نہ صرف تاریخ کے ساتھ انصاف ہوگا بلکہ نئی نسل کو یہ احساس بھی دلائے گا کہ آزادی ایک مشترکہ قومی وراثت ہے۔ تاریخی مقامات کا مقصد صرف ماضی دکھانا نہیں بلکہ تنوع کو سمجھانا، مشترکہ وراثت کا احساس دلانا اور تاریخ کو وسیع تناظر میں دیکھنا اور سکھانا ہے۔ یہ مضمون گمنام قربانیوں کی یاد دہانی ہے اور تاریخ میں توازن کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ سیلولر جیل کی دیواریں آج بھی گواہ ہیں کہ آزادی کی جدوجہد اور اس کی قربانیاں بھی مشترکہ تھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام قربانیوں کو بغیر تفریق اور بغیر تعصب کیمنظر عام پر لایا جائے۔