میں پوٹن کی حقیقی ماں ہوں، ایک پراسرار معمر خاتون کے دعوے کی گونج

   

ماسکو :’’ ماں کا دل اس کا رہنما ہوتا ہے‘‘ ان الفاظ کے ساتھ ایک پراسرار معمر خاتون نے اصرار کیا ہے کہ وہ روسی صدر پوتین کی حیاتیاتی ماں ہیں۔ حال ہی میں یہ خاتون اپنا دعویٰ لے کر میڈیا میں نظر آئی ہے۔ویرا پوٹینا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے پوتین کو اپنے طویل عرصے سے کھوئے ہوئے بیٹے کے طور پر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ انہیں اس وقت ٹی وی پر دیکھا جب وہ 1999 میں صدر کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔’ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پراسرار بوڑھی عورت نے اپنے خاندان کے بارے میں اپنی کہانی اس وقت بیچنا شروع کی جب وہ ستر کی دہائی میں تھی۔اس معمر خاتون نے اپنے پڑوسیوں، صحافیوں اور روسی و جارجیائی سکیورٹی سروسز کی مشکوک شخصیات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ گفتگو کی۔ یہ خاتون جارجیان میں رہتی ہے۔معمر خاتون نے بتایا کہ میرے کھو جانے والے بیٹے کا نام ’فووا‘ تھا اس لیے میں پوتین کو بھی فووا کے نام سے ہی پکارتی ہوں۔ فووا 1950 میں میرے اپنے ہم جماعت پلاٹون پریالوو کے ساتھ مختصر تعلقات کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس وقت میں روس کے اپنے ا?بائی شہر اوزیورسک کے قریب زراعت کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔اس نے دعویٰ کیا کہ یہ رشتہ اس وقت ختم ہو گیا جب اسے پتہ چلا کہ پریالوو شادی شدہ ہے اور 1952 میں وہ اپنے نئے شوہرجیورجی اوسیپاہولی جو ایک جارجیائی فوجی تھا کے ساتھ تبلیسی سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع گاؤں میتکی چلی گئی۔خاتون نے کہا میرا بیٹا فووا مقامی اسکول میں اپنی کلاس میں سب سے ذہین تھا، اسے اسے پڑھنے، خطاطی، ماہی گیری اور روسی لوک کہانیوں کا شوق تھا۔