عوامی صحت حکومت کی اولین ترجیح، فیلوس انڈیا کانفرنس سے خطاب
حیدرآباد ۔ 10 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر نہیں ہے بلکہ ایک سماجی ڈاکٹر ہیں جو معاشرے کی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان کے علاج کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ آج شام ایچ آئی سی سی میں منعقدہ فیلوس انڈیا کانفرنس میں مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد تیزی سے لائف سائنس، فارما اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ اختراعات کا عالمی مرکز بنتا جارہا ہے اور یہ ریاست کیلئے فخر کی بات ہے۔ اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنس شہر میں منعقد ہورہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ان کی حکومت عوامی صحت کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس شعبہ میں بہتری کیلئے پالیسی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ چیف منسٹر نے ڈاکٹرس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں مسلسل سیکھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے اور اگر کوئی نئی چیزیں سیکھنا چھوڑ دے تو وہ دراصل اپنے کیریئر سے ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے ڈاکٹرس کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور اپنی مہارتوں کو مسلسل نکھارنے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت ڈاکٹرس کے ساتھ مل کر عوامی مفاد میں پالیسیوں کو مزید بہتر بنانے کیلئے تیار ہے اور اس سلسلہ میں ماہرین صحت کی تجاویز اور مشوروں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اپیل کی کہ سب مل کر لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے کام کریں اور صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو عالمی سطح پر بہترین بنانے کی سمت پیشرفت کریں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر طلبہ کو سی پی آر (CPR) جیسی بنیادی زندگی بچانے والی تربیت دی جائے تو بے شمار قیمتیں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ چیف منسٹر نے ڈاکٹرس اور طبی اداروں سے دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے مشن میں شراکت دار بننے کی بھی اپیل کی۔2
