آمدنی، ذات اور رہائش سرٹیفکیٹس کے بشمول دیگر سرویس چارجس کی قیمتیں بڑھ گئی
حیدرآباد ۔ یکم ؍ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ کے پیش نظر ریاست بھر میں می سیوا مراکز خدمات کی فیس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تازہ (جی او) کے مطابق نئی قیمتیں فوری طور پر نافذالعمل ہوگئی ہیں۔ نئے قیمتوں کے تحت آمدنی، ذات اور رہائش (مقامی) سرٹیفکیٹس کی فیس بڑھا کر 80 روپئے کردی گئی ہے جو پہلے تقریباً 45 تا 55 روپئے کے درمیان تھی۔ اس طرح برتھ سرٹیفکیٹ (پیدائش) کے پرنٹ کی فیس بھی 40 سے 45 روپئے سے بڑھا کر 62 روپئے کردی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ فیصلہ می سیوا مراکز کے منتظمین کی درخواست پر کیا گیا ہے جو طویل عرصہ سے بڑھتے ہوئے اخراجات، برقی کے بل، انٹرنیٹ اور عملے کی تنخواہوں کے سبب کمیشن میں اضافے کا مطالبہ کررہے تھے۔ ان کا کہنا ہیکہ موجودہ حالات میں خدمات کو برقرار رکھنے کیلئے فیس میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا۔ دوسری جانب اس فیصلے پر عوام بالخصوص طلبہ اور سرکاری ملازمتوں کی نوٹیفکیشن کیلئے درخواستیں داخل کرنے والے امیدواروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عام طور پر تعلیمی داخلوں اور سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواستیں داخل کرتے وقت ذات، آمدنی اور رہائش کے سرٹیفکیٹس لازمی ہوتے ہیں جس کے باعث اان خدمات کی قیمتوں میں اضافہ متوسط اور غریب طبقے پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا۔ واضح رہیکہ سرویس چارجس میں تقریباً 40 سے 50 فیصد تک اضافے کے بعد عوامی حلقوں میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ جبکہ حکومت کا موقف ہیکہ یہ قدم خدمات کے تسلسل اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے۔2