آسرا وظائف کے غبن کی تحقیقات میں انکشاف، حکومت کو سخت نظر رکھنے کی ضرورت
حیدرآباد۔19ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے می سیوا مراکز کے ذریعہ انجام دی جانے والی بد عنوانیوں کو روکنے کیلئے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کی جانب سے سخت گیر اقدامات کئے جا نے ضروری ہیں کیونکہ شہر حیدرآباد کے می سیوا مراکز کے ذریعہ بدعنوانیوں انجام دیا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ یوم آسرا وظائف کے غبن کے معاملہ کی تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر حیدرآباد میںسرکاری دفاتر اور تحصیلدار کے دفاتر کے سے تعلق رکھنے والے بدعنوان عہدیداروں نے می سیوا مراکز کو اپنی بد عنوانیوں کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے اور شہر کے کئی دفاتر کے لاگ ان آئی ڈی اور پاسورڈ شہر کے چنندہ می سیوا مراکز کے ذمہ داروں کے پاس موجود ہیں ۔ محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کو فراہم کی گئی اطلاع کے مطابق می سیوا مراکز کے ذریعہ انجام دی جانے والی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ شہر میں بعض می سیوا اور ٹی سیوا مراکز کے ذمہ داروں کی جانب سے اپنی شاخیں کھولتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں اور ایک ہی مرکز کی اجازت حاصل کرتے ہوئے کئی مراکز شروع کئے جانے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر کے بعض می سیوا اور ٹی سیوا مراکز کی جانب سے شہریوں کی تفصیلات کے غلط استعمال کے علاوہ ان مراکز کے ذریعہ سرکاری دفاتر کے کھاتہ لاگ ان ہونے کی تفصیلات بھی موصول ہوئی ہیں اور تمام تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مراکز میں جن عہدیداروں کے آئی ڈی اور پاسورڈ کا استعمال کیا گیا ہے ان کی تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق کو منظر عام پر لایا جاسکے۔ جی ایچ ایم سی ‘ محکمہ مال‘ دفاتر تحصیل‘ سب رجسٹرار ‘ محکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے بد عنوان عہدیداروں کی جانب سے ان محکمہ جات میں درمیانی فرد اور بروکر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والوں کے ساتھ ملکر ان مراکز کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا جا رہاہے اور رشوت کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے جن مراکز میں یہ سرگرمیاں جاری ہیں ان کی مکمل تفصیلات کے حصول کے لئے خصوصی ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی جاچکی ہے اور جن عہدیداروں اور محکمہ جات کے سرکاری آئی ڈی اور پاسورڈ کا می سیوا یا ٹی سیوا مراکز کے ذریعہ استعمال کیا گیا ہے ان کا بھی جائزہ لیتے ہوئے محکمہ کے عہدیداروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ می سیوا ‘ ٹی سیوا کے ذریعہ جاری بد عنوانیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے تحت شہر کے تمام مراکز کا جائزہ لیا جائے گا۔