نئی اسکیمات کیلئے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی پر استعفیٰ کیلئے عوام کا دباؤ

   

ضمنی چناؤ کی صورت میں ترقی ممکن، سوشیل میڈیا پر بڑھتی مہم سے ارکان اسمبلی کو پریشانی

حیدرآباد۔ یکم ؍ اگسٹ، ( سیاست نیوز ) ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے چیف منسٹر کی جانب سے ہزاروں کروڑ کی اسکیمات کے اعلان نے برسراقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی کیلئے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ ناگرجنا ساگر اور پھر حضورآباد میں چیف منسٹر نے ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے نئی اسکیمات کا اعلان کیا جن کی مالیت ہزاروں کروڑ ہے۔ حضورآباد سے دلت بندھو اسکیم کے آغاز کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ہر مستحق خاندان کو 10 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ اسکیم کے اعلان کے بعد سے برسراقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی پر رائے دہندوں کی جانب سے دباؤ بڑھنے لگاہے کہ وہ بھی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیں تاکہ ضمنی انتخاب ہو۔ ضمنی انتخاب کی صورت میں حکومت ہزاروں کروڑ کی اسکیمات کا اعلان کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ اپوزیشن ارکان اسمبلی نے حضورآباد کی طرح 2000 کروڑ کی منظوری کی صورت میں اپنی نشستوں سے استعفیٰ کا چیف منسٹر کو پیشکش کیا ہے۔ ہزاروں کروڑ کی اسکیمات کے اعلانات کے درمیان سوشیل میڈیا پر عوام کی جانب سے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے کیلئے استعفی کی مانگ کی جارہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ عام حالات میں حکومت فنڈز کی اجرائی سے گریز کررہی ہے۔ اگر رکن اسمبلی استعفی دے دیں تو ضمنی چناؤ علاقہ کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ دوباک اور ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخابات میں یہی کچھ ہوا تھا۔ موجودہ صورتحال نے برسر اقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ بھونگیر میں ایک ہورڈنگ لگائی گئی جس پر بھونگیر اسمبلی حلقہ کیلئے دلت بندھو اسکیم حاصل کرنے یا پھر اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دینے کا رکن اسمبلی شیکھر ریڈی سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے کئی ارکان اسمبلی کے نام سے ان کے حلقوں میں اس طرح کی مہم شروع کردی گئی ہے۔ پسماندہ اور دلت خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے حلقہ میں بھی ہزاروں کروڑ کا اعلان کیا جائے۔ حضورآباد کے رائے دہندوں کیلئے راشن کارڈز، پنشن، دلت بندھو، بھیڑ بکریوں کی تقسیم اور دیگر اسکیمات کا آغازکیا گیا۔ عوام کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے خود کو حیدرآباد تک محدود کرلیا ہے۔ وہ اپنے انتخابی حلقوں کے دورہ سے گریز کررہے ہیں تاکہ عوام کی تنقیدوں سے بچ سکیں۔ سوشیل میڈیا پر ٹی آر ایس ارکان اسمبلی سے استعفی اور ضمنی چناؤ کو یقینی بنانے کا مطالبہ دن بہ دن شدت اختیار کررہا ہے۔