نئی دہلی: صد فیصد کارڈیاک شریانوں کے بند ہونے سے متاثرہ ایک خاتون کی زندگی تقریباً 40 منٹ تک سی پی آر دینے کے بعد بغیر اسٹینٹ یا بیلوننگ کے جدید ترین ٹو پلس آئی وی ایل کیتھیٹر تکنیک کے استعمال سے بچالی گئی۔پرائیویٹ سیکٹرکے پارس ہیلتھ گروگرام ہاسپٹل کے انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر اور یونٹ ہیڈ ڈاکٹر امت بھوشن شرما نے منگل کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 58 سالہ خاتون ہائپر شوگر۔ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا تھی۔ اس کی وجہ دل کی 100 فیصد بند شریان تھی۔ عام طور پر شریانوں میں چربی کی پرت جم جاتی ہے لیکن اس صورت میں ذیابیطس کی شریان میں کیلشیم کی پرت جمع ہوگئی تھی۔ اس لیے شریان میں اسٹینٹ یا بیلوننگ تکنیک کا استعمال ممکن نہیں تھا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے جدید ترین “سی 2 پلس آئی وی کیتھیٹر” تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تکنیک میں لیزر شعاعیں شریان میں جمع کیلشیم کی تہہ کو توڑ کر خون کیلئے راستہ بناتی ہیں۔ پارس ہیلتھ یہ تجربہ کرنے والا ہندوستان کا تیسرا اسپتال ہے اور پورے ملک میں یہ تیسرا کیس ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ تکنیک عمر دراز دل کے مریضوں کے علاج اور ہنگامی حالات میں کارآمد ہے ۔ کیونکہ اس کے لیے اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس تکنیک کے استعمال کی لاگت دو لاکھ سے سوا دولاکھ روپے تک آتی ہے ۔ اسپتال، جانچ اور ادویات کے اخراجات الگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “سی-2 پلس آئی وی ایل کیتھیٹر” ٹیکنالوجی کو کورونری شریانوں کے بلاک شدہ کیسوں سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں دل کے روایتی علاج جیسے کہ اسٹیریوٹائپیکل بیلوننگ اور اسٹینٹ امپلانٹیشن نے کارگر نہیں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر شرما نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کو سینے میں درد ہو رہا تھا۔ مختلف ٹیسٹ جیسے ای سی جی اور کارڈیک اینزائم ٹیسٹ فوری طور پر کیے گئے ۔ اگرچہ ان ٹیسٹوں کے نتائج نارمل تھے لیکن درد مسلسل تھا۔ اسی رات خاتون کی حالت سنگین ہوگئی اور اس کی نبض بھی کام نہیں کررہی تھی۔ مریض کو آپریشن کے پانچ دن بعد ڈسچارج کر دیا گیا تھا اور اب وہ ٹھیک ہے ۔