نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کیلئے پسماندہ طبقات قائدین سے مشاورت

   

سابق وزیر راجندر سے ٹی آر ایس کے کئی ناراض قائدین ربط میں، ٹی آر ایس کی ناراض قائدین پر نظر
حیدرآباد۔ سابق وزیر ای راجندر تلنگانہ میں نئی سیاسی جماعت کے قیام کے سلسلہ میں پسماندہ طبقات کی تنظیموں کے نمائندں سے مشاورت کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس قائدین نے انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ اس کے علاوہ پروفیسر کودنڈا رام نے تلنگانہ جنا سمیتی میں شمولیت کا مشورہ دیا ہے تاہم راجندر کے حامی انہیں پسماندہ طبقات کیلئے انصاف کے نام پر نئی سیاسی جماعت پر زور دے رہے ہیں۔ بعض گوشوں کی جانب سے یہ اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں کہ راجندر نے ٹی آر ایس میں دوبارہ واپسی اور چیف منسٹر سے مصالحت کی تیاری کرلی ہے۔ راجندر کے قریبی ذرائع ان اطلاعات کی تردید کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے جس طرح راجندر کے خلاف دو تحقیقات شروع کی ہیں ایسے میں واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ واپسی کی صورت میں راجندر کے سیاسی کیریئر پر اثر پڑسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بی سی قائدین راجندر سے ربط میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پسماندہ طبقات کی آبادی مجموعی آبادی کا 52 فیصد ہے۔ بی سی طبقہ کی عزت نفس کے نام پر بہت جلد حضور آباد سے مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق راجندر سے ٹی آر ایس کے بعض ناراض قائدین نے فون پر بات کی اور تعاون کا یقین دلایا۔ راجندر کی تائید میں مختلف گوشوں سے دن بہ دن اضافہ کو دیکھتے ہوئے برسراقتدار پارٹی نے ناراض قائدین کو منانے کی کوششیں شروع کی ہیں تاکہ راجندر کو تنہا کیا جاسکے۔ کریم نگر کی سابق ضلع پریشد صدرنشین ٹی اوما کے علاوہ کئی سینئر قائدین نے راجندر سے ملاقات کی۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابق ایم ایل سی راملو نائیک بھی راجندر کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر صحت پسماندہ طبقات کے علاوہ دیگر طبقات کے قائدین سے بھی ربط میں ہیں تاکہ ان کی جدوجہد صرف بی سی طبقات تک محدود نہ رہے۔ اسی دوران ٹی آر ایس نے راجندر کے حامیوں پر کڑی نگرانی شروع کردی ہے۔