نئی نسل چبوتروں پر بیٹھ کر مستقبل تباہ نہ کریں : ایس پی

   

Ferty9 Clinic

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا ، آئی پی ایس سائی کرن کی نمائندہ سیاست سے بات چیت
نرمل ۔ 8 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نسل نو کو میں یہ پیام دینا چاہتا ہوں گے، وہ رات دیر گئے چبوتروں پر بیٹھ کر اپنے مستقبل کو تاریک نہ کریں بلکہ تعلیم کی طرف توجہ دیتے ہوئے اپنے مستقبل کو درخشاں بنانے کیلئے جدوجہد کریں کیونکہ تعلیم یافتہ نسل ہی اپنے والدین اور اپنے شہر کا نام روشن کرنے میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نرمل کے نئے اے ایس پی پی سائی کرن IPS نے سید جلیل ازہر اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست نرمل کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈرگس اور گانجہ کی لعنت سے دُور رہتے ہوئے اپنے مستقبل کی فکر کریں۔ پولیس کسی بھی غیرسماجی عناصر کی سرگرمیوں کو کچلنے کیلئے اپنی ذمہ داری نبھائے گی۔ تاہم ذمہ دار شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کی اطلاع پولیس کو دیں کیونکہ آج معاشرہ میں گانجہ اور ڈرگس کی لعنت سے کئی گھر تباہ و برباد ہورہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ گاڑیوں کی رفتار کا بھی خیال رکھیں۔ سرپرستوں کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ کم عمر لڑکوں کو گاڑیاں چلانے سے روکیں، ٹریفک کے خلاف ورزی نہ کریں۔ گاڑیوں کے مکمل دستاویزات کے بغیر گاڑی نہ چلائیں۔ پی سائی کرن نے کہا کہ وہ بہرصورت نرمل میں امن و امان کی برقراری کیلئے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ ذات پات کی تفریق سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا ایک دوسرے کے مذاہب کا خیال نہ کرتے ہوئے فرقہ پرستی کو ہوا دینے والے کسی بھی فرد کو بخشا نہیں جائے گا۔ چاہے سماج میں اس کا رتبہ کچھ بھی ہو، میری پہلی ترجیح ہندو ۔ مسلم اتحاد بھائی چارگی کو فروغ دینا ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب کسی دوسرے مذہب کو برا بھلا کہنے کا درس نہیں دیتا۔ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام ہی انسانیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے والدین اور اپنے علاقہ کا نام روشن کرنے کیلئے سیول امتحانات میں پہلی بار ناکامی کے باوجود ہمت نہیں ہاری، میری جدوجہد اور ماں باپ کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ میں 2023ء میں IPS کیلئے منتخب ہوگیا جبکہ میں نے انجینئرنگ کی تعلیم CBIT حیدرآباد سے مکمل کی۔ بعد میں آئی آئی ایم کالی کٹ سے ایم بی اے کیا۔ میرا مقصد تھا۔ سیول سرویس میں کامیاب حاصل کرنا، اس نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے والدین اور اپنے علاقہ کا نام روشن کرنے کیلئے غیرضروری سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو، اپنے شاندار مستقبل کیلئے لگاتار جدوجہد کریں۔ خلوص دل سے کی گئی محنت پر کامیابی خودبخود آگے بڑھ کر قدم چومتی ہے اور محنت بھی رائیگاں نہیں جاتی۔