چیف منسٹر کی ہدایت پرمحکمہ تعلیم کی تیاریاں ، ہر ضلع سے 20 تا 30 اسکولس کا انتخاب
حیدرآباد۔ 7 مئی (سیاست نیوز) محکمہ تعلیم کی جانب سے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ریاست کے ایک ہزار سرکاری اسکولس میں پری پرائمری (ایل کے جی) کلاسیس کا آغاز کرنے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ حکومت نے سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ایک حصہ کے طور پر ایل کے جی اور یو کے جی کلاسیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں ڈائریکٹوریٹ اسکول ایجوکیشن نے تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں اس کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے بھی تعاون طلب کیا ہے۔ مرکزی حکومت تعاون کرے یا نہ کرے، ریاست کے سرکاری اسکولس میں پری پرائمری کلاسیس کا آغاز کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ کلکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے۔ آنگن واڑی مراکز میں لاکھوں طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ان میں بہت کم طلبہ ہی سرکاری اسکولس میں داخلہ لے رہے ہیں جبکہ خانگی اسکولوں میں نرسری، ایل کے جی، یو کے جی میں بڑی تعداد میں داخلہ لے رہے ہیں جس کے پیش نظر حکومت نے نئے تعلیمی سال 2025-26ء کی ابتداء ہی سے ایل کے جی اور یو کے جی کیلئے کلاسیس کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الحال تلنگانہ میں 25 ہزار سے زائد آنگن واڑی سنٹرس ہیں جس میں 21 ہزار سے زائد اسکولس میں پری پرائمری کلاسیس جاری ہیں۔ ایک ہی احاطہ میں اس طرح کے دو اسکولس میں 7 ہزار سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ہر ضلع سے 20 تا 30 اسکولس کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ فی الحال پرائمری اسکولس کے احاطہ میں موجود آنگن واڑی مراکز کو اسکول ایجوکیشن کی طرف سے ایک آیا کے ساتھ انسپکٹر کو مختص کیا جارہا ہے جنہیں محکمہ تعلیم کی جانب سے تنخواہ ادا کی جائے گی۔ آنگن واڑی مراکز میں بچوں کی عمر کے لحاظ سے پرائمری سطح کی تعلیم دی جائے گی۔ اُن دونوں کیلئے وہاں پر پرائمری اسکول کے حدود ہی میں کام کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس طرح ایک اسکول پر حکومت 2 لاکھ روپئے خرچ کرے گی۔2