کسانوں کی آمدنی میںا ضافہ کیلئے یہ قانون لایا گیا
نئی دہلی: وزیر وزراعت نریندر سنگھ تومر نے پیر کے روز کہا کہ نئے قوانین کسانوں کی زندگی میں تبدیلی لانے میں اہم اقدام ثابت ہو رہے ہیں۔ تومر نے آج یہاں جاری بیان میں کہا کہ زرعی پیداوار تجارت اور کمرشیل (فروغ اور تسہیل) ایکٹ 2020 کے تحت مدھیہ پردیش کے ایک ایس ڈی ایم کی جانب سے کیے گئے فیصلے سے مہاراشٹر کے کسان کو اس کے حق کی پوری رقم مل گئی ہے ۔ ملک میں زرعی اصلاح اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون یقینی طور پر انقلابی تبدیلیاں لائیں گی جن کی محض یہ ایک مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دلانے ، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور ان کے معیار زندگی میں تبدیلی لانے کے مقصد سے وزیر اعظم نریندر مودی کی دور بیں فکر کے مطابق حکومت نے نئے زرعی قوانین بنائے ہیں جن کے ذریعے صرف اور صرف کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے ۔ زرعی پیداوار تجارت اور کمرشیل (فروغ اور تسہیل) ایکٹ کا مقصد کسانوں کو ان کی پیداوار کے فروخت کی آزادی کے ساتھ ایسے نظام کی تعمیر کرنا ہے جہاں کسان اور تاجر زرعی پیداوار منڈی کے باہر بھی دیگر پلیٹ فارم پر زرعی پیداواروں کی کامیابی سے تجارت کر سکیں۔ مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ نئے قانونی التزامات ہونے کے بعد ایک اہم معاملے میں مہاراشٹر کے بھٹانے (تحصیل شِرپور، ضلع دھولے ) کے باشندے کسان جتیندر کو مدھیہ پردیش کے کھیتیا (ضلع بڑوانی) کے باشندے تاجر سُبھاش سے پانسیمل (بڑوانی کے ایس ڈی ایم نے ، اس کی جانب سے فروخت کی گئی مکا کی رقم دلائی ہے ۔ کاشت کار جیتیندر نے 270.95 کوئنٹل مکا تاجر کو فروخت کی تھی۔ تاجر کی جانب سے کسان کو 3,32,617 روپیے کی ادائیگی نہ ہونے پر کسان نے ایس ڈی ایم کو اسے ادائیگی کروانے کے لیے درخواست دی تھی۔ نئے قانون سے متعلق معاملہ ہونے سے اس میں بڑوانی کلیکٹر نے بھی ہدایات دیں اور کسان کو تاجر سے اس کی زرعی پیداوار کی مکمل ادائیگی کروائی گئی۔کسانوں سے متعلق تنازعہ کے نمٹارے کے لیے نئے قانون کے تحت ضابطے بنائے گئے ہیں۔ اس کے مطابق کسان اور تاجر کے درمیان برتاؤ سے پیدا کسی بھی اختلاف کا پہلے صلح بورڈ کے ذریعے روایتی طور پر قابل قبول حل کیا جائے گا۔ آپس میں تنازعہ حل نہ ہونے پر ایس ڈی ایم کو بھی درخواست دی جا سکتی ہے جو اسے متعینہ وقت میں نمٹائے گا۔
