پروفیسر ڈاکٹر محمد سراج الرحمن
امت کے نوجوانوں پر عظیم ذمہ داری، اعلیٰ کردار، عمدہ توقعات کی امید رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا ہر نبی کا ایک اثاثہ (Asset) ہوتا ہے، میرا اثاثہ میری امت کے نوجوان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعلیم و تربیت میں جو رول تاریخ اسلام میں ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم، اعلیٰ ٹکنالوجی میں بھی نمایاں کردار ادا کی ہے اور کچھ حد تک ادا کررہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو کردار سازی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ملت میں وحدت، اتحاد، اپنے مسائل کے حل کا ہنگامی تلاش سونچنے کیلئے اتحاد کا پلیٹ فارم فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جمع ہونا ہے آج کے زمانے حاضر کی لازمی اہم ضرورت ہے۔
لیکن افسوس کہ ہم نئے سال میں داخل ہورہے ہیں لیکن پچھلے سال جو کچھ ہم سے نوجوانوں کے کردار سازی، معاش کا صحیح استعمال، بے جا فضول خرچی، اجتماعی معاشرتی نظام کی درستگی، غربت، مفلسی کے باوجود شادی بیاہ کی اور سالگرہ، چاہے پیدائشی یا نئے سال کی یا شادی جیسے مغربی کلچر سے امت کی قربت دین سے دوری، دین بیزارگی جیسے سنگین مسائل سے دردمندان ملت کی دوری نے ہمیں نہ صرف پسماندہ قوم اور مایوسی کا شکار بنایا بلکہ آبنائے وطن کے سامنے ہمارے وقار کو پامال ہونے سے نہ بچایا اور رسوا بھی ہورہے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ مادیت کی یلغار، جدید علوم و افکار کے راستوں سے مسلمانوں کے ذہنوں میں لادینیت کا سیلاب امڈ رہا ہے۔ مغریبیت کے دلدادہ، اشتراکیت جراثیم سرایت کرتے جارہے ہیں جس کی یہ نوجوان نسل آسانی سے شکار ہورہی ہے۔ نتیجتاً وہ تمام تر کردارکش واقعات میں ملوث نظرآرہا ہے۔ عریاں بددین، بدزبان، بدترین تہذیب کا یہ ہم پیالہ، ہم نوالہ بن رہا ہے۔ کاش گلشن میں سمجھتا فریاد اس کی۔ اس وقت کا یہ المیہ جس کا امت مسلمہ شکار ہے، ایک ایسے ایمانی زوال میں گرفتار ہے جس کی وجہ سے یہ انفرادی طور پر اور امت مسلمہ، اجتماعی طور پر اسکی شکار ہے اور اس کی اصل منزل آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ہے اگرچیکہ مسلسل محنت و مشقت، کوششیں سعی جدجہد ہورہی ہے لیکن کامیابی کے ساحل مراد سے ہم ابھی بہت دور ہیں۔ انفرادی اجتماعی تگ ودو، مجاہدہ، ریاضت کے باوجود ہمارا مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ مسلسل وقتاً فوقتاً اجتماع، جلسے، جلوس، میٹنگس، کانفرنس (حالیہ شہر میں دردمندانوں کا اجلاس)، تصنیف، تالیف، وعظ، دعوت و تبلیغ بلکہ تبدیلی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑا جارہا ہے!! لیکن مسئلہ کا حل، اصلاح، سدھار، کردار نظر نہیں آرہا ہے۔ ایمان کا گراف بھی دن بدن گرتا جارہا ہے اس کی وجہ کا ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہئے کہ نتائج کیوں فراہم نہیں ہورہے ہیں۔
ہمیں آنکھیں کھول کر ہماری نوجوان نسل کے کردار کو دیکھنا ہے، سدھارنا ہے۔ پچھلے سال یہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ جنہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ اس نئے سال میں ہماری priorities ہمیں طئے کرنا اس کو عملی جامہ پہنانا پڑے گا ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی اور ہماری روزمحشر رب العالمین کے دربار میں بازپرس، پوچھ ہوگی۔ دین سے دوری کا سنگین مسئلہ حل کرنا اور اسے باکردار بنانا بنیادی فریضہ ہے۔ اس میں والدین کی اور عمائدین علماء کرام زعمائے ملت اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھ کر امت مسلمہ خاص کر نوجوانوں کو مایوسی نہ ہونا چاہئے۔ رب العالمین کیا نہیں چاہتا کہ اسلام غالب ہو؟ وہ یقیناً یہ حالات ناموافق پیدا کرتے ہوئے، خواب غفلت اور مایوسی سے ہمیں جگانا چاہتا ہے۔ اب ہمیں مایوس، پست ہمت ہوئے بنا، لائحہ عمل طئے کرنا متحدہ طور پر یہ موقعتی حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے یقیناً ہمارا غلبہ دشمنان اسلام کی صفوں میں دراڑ ڈال دے گا۔ بزدلی، مایوسی، پست ہمت وہی قوم ہوتی ہے جو تاریخ اسلام کا مطالعہ نہیں کرتی دورسالتؐ سے ایک دورصحابہ، تاتاری قوم کا غلبہ، پھر مختصر یہ کہ 1857ء کو جنگ آزادی کی تحریک پھر 1920ء کے فسادات، 1947ء کی جنگ آزادی پھر ملک کا بٹوارہ اس کے بعد دو دہوں تک عدم استحکام یہ تمام چیزیں ہمیں بتارہی ہیں کہ وقتیہ اگرچیکہ دشمن کامیاب ہوتا نظر آتا ہے لیکن یقینی طور پر ہمارا غلبہ ہوگا۔ ہم حزن نہ لیں، خوف نہ لیں، خواب غفلت سے جاگنے کا یہ موقع ہے۔ امید پورٹل ہوکہ ، SIR ہم کو جگا کر ہماری جڑوں کو مضبوط کررہا ہے۔ اب ہمت، Courage، جستجو، جدوجہد کا بیباکانا مظاہرہ کرنے کا وقت ہے یقینی طور پر کامیابی غلبہ، حکمرانی کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔ وہ دن دور نہیں بشرطیکہ ہم دعوت دین کو محنت کو ہمارا منصبی فریضہ بنالیں۔ احکام خداوندی کے ہم پاسداری کا عملی ثبوت پیش کریں۔ بقول علامہ اقبالؒ
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کو خودی کو
ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
(1) پہلا نئے سال میں ہمیں دیکھنا ہے کہ نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کیسے کی جائے۔ ہم نے ہمارے نونہالوں کو کرسچن مشنریز، دیوی مالوں، ودیانکیتن کے حوالے کیا جہاں ان کو صبح سوریہ نمسکار، وندے ماترم، او، گیتا کے پاٹ سے ہورہی ہے والدین کی سرپرستوںکی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بچوں کو دینی تعلیم، توحید و رسالت کی تعلیم کے مستقل انتظامات کریں، اس پر کڑی نظر رکھیں ورنہ یہی اولاد دین بیزار، مادہ پرست، ماں باپ کی نافرمان، سماج کیلئے دردسر، ناسور بنے گی جب پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دنیا کی تعلیم جو دین سے دور کرتی ہے بام عروج پر نہیں پہنتی۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ،ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے کے مماثل ہوگا۔
(2) ہم کو برادرن وطن میں محبت، فراست سے دعوت دین کی محنت، میشن رسول ﷺ کو متعارف اور تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ ہم کیسے امتی ہیں، عجیب فطرت ہے، نہ آقاﷺ کا درد اپناسکے، نہ ان کا بتایا ہوا راستہ نہ خود اپنا سیکھے نہ دوسروں کو پیغام پہنچاسکے جس کو منصبی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر دے گی۔ ہم ہمارے خوابوں میں، دعوتوں، سیرو تفریح میں مست ہیں۔ پیغمبراسلامﷺ کا تعارف تعلیمات کو برادران وطن تک محبت، حکمت، فراست پہنچائیں یہ سکوں متلاشی ہیں یہ سکون کا نسخہ کیمیا۔ امت مسلمہ کے پاس ہے۔
(3) تیسرا اہم کام ہمیں خدمت خلق بلالحاظ مذہب و ملت نصب العین بنانا۔ دواخانوں، خانقاہوں، مساجد، مدارس، دینی مراکز ہر جگہ ساری انسانیت کیلئے خدمت کرنا۔ ساری انسانیت اللہ کا کنبہ ہے۔ اپنے پیشے میں رہتے ہوئے ساری انسانیت کو یہ پیغام دو ہم سب ایک باپ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ پیغمبر اسلامﷺ ساری انسانیت کیلئے کامل رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس جہد میں کامیابی عطا کرے۔ پیغمبراسلامﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
