دیکھتے ہی دیکھتے سال 1442 ھجری ہم سے رخصت ہوگیا، ہمیں اس وقت یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں، کہ ہم نے پچھلے سال کتنے نیک کام کئے کتنی اللہ کی نافرمانیاں کیں، کتنوں کا دل دکھایا، حقوق العباد میں کتنی کوتاہیاں کی ،ان سب چیزوں کا محاسبہ کریں۔کوتاہیوں پر اللہ سے معافی مانگیں، حقوق العباد کا معاملہ ہو تو متعلقہ شخص سے مل کر معاملے کا حل نکالیں، نئے سال کے موقع پر ہم عزم کریں کہ ان شاءاللہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ ہم کوئی بھی اللہ نافرمانی نہیں کریں گے ،حقوق العباد میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے، آپس میں محبت کے ساتھ رہیں گے ،جھگڑا نہیں کریں گے،کسی کا دل نہیں دکھائیں گے۔ ان شاءاللہ۔دوسری چیز ہم سب جانتے ہیں کہ پچھلے دو سالوں سے پوری دنیا کورونا وائرس کی وجہ سے بہت بڑی آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ کتنے ایسے ہمارے عزیز رشتہ دار، دوست، احباب واقارب پچھلے سال عیدین میں رمضان میں اور خوشی وغم میں ہمارے ساتھ تھے مگر وہ اس سال ہمارے ساتھ نہیں ہیں، کتنے بچے یتیم ہوگئے کتنی مائیں اور بہنیں بیوہ ہوگئی، کتنوں کے سر سے ان سرپرستوں کا سایہ اٹھ گیا، ہمارے کتنے علماء اللہ کو پیارے ہوگئے نہ جانے کتنے اس بیماری کی وجہ سے ہمارے اپنے ہم سے بچھڑ گئے۔ ہمیں اللہ نے ایک سنہرا موقع عطا فرمایا ہے،۔ آئیے سب مل کر عزم کریں اپنی صحت کو جوانی کو اور زندگی کو غنیمت سمجھکر اللہ کو راضی کریں اس کو منائیں ، اور زندگی میں جو جو نعمتیں اس نے دی ہیں ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں۔نوجوانوں سے کہوں گا اپنی جوانی کو غنیمت جان کر کثرت سے اللہ کو راضی کرنے والے کام کریں نمازوں کی پابندی کریں، بوڑھاپے کا انتظار نہ کریں، اس لئے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ موت کب آئے گی سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، کتنے جوان ایسے تھے وہ جوانی کی رنگ رلیوں میں مست تھے ، ارے جو کچھ کرنا ہے کر لو بڑھاپے میں تو بہ کریں گے، مگر ان کی موت کا وقت آگیا ان کے سب خوابوں پر پانی پھیر گیا ان کو توبہ کا موقع بھی نہیں ملا ۔۔ الا ماشاءاللہ۔۔میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرمائے، آنے والا سال ہمارے لیے خیر وعافیت کا باعث بنائے، کورونا وائرس سے ہمارے وطن عزیز بھارت اورپوری دنیا کی حفاظت فرمائے، اور ہر طرح کے آفات سے بھارت سمیت ساری دنیا کی حفاظت فرمائے۔
