نئے سال کے موقع پر منشیات کے خلاف سخت کارروائی

   

Ferty9 Clinic

صفر منشیات پالیسی پر عمل کرنے کا عزم، کمشنر پولیس وی سی سجنار کا عہدیداروں سے خطاب
حیدرآباد 26 دسمبر(سیاست نیوز) نئے سال کی آمد کے پیش نظر حیدرآباد سٹی پولیس نے منشیات کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے شہر میں محفوظ اور منشیات سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کے لئے سخت ’صفر منشیات پالیسی‘ اپنائی ہے۔ پولیس کمشنر وی سی سجنار نے جمعہ کو بنجارہ ہلز میں انٹیگریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (آئی سی سی سی) میں اعلیٰ سطحی رابطہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس دوران انہوں نے اعلیٰ افسران اور فیلڈ افسران کو شہر میں ‘‘باز کی نگاہ’’ رکھنے کا حکم دیا۔ کمشنر نے ایچ نیو (حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ ونگ)، ٹاسک فورس، اسپیشل برانچ اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شامل کرتے ہوئے کثیر الجہتی سیکیورٹی پلان کا خاکہ پیش کیا۔ تمام پبس، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور ایونٹ وینیوز پر فوری طور پر خصوصی نگرانی ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔ کمشنر نے گزشتہ دو برسوں میں منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد پر مسلسل نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ افسران کو معروف منشیات فروشوں اور صارفین کی جامع فہرست تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تہواروں کے لئے شہر میں داخل ہونے والے افراد کی تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی۔ یہ کارروائی عوامی مقامات تک محدود نہیں رہے گی۔ پولیس سروس اپارٹمنٹس اور ہاسٹلس میں ہونے والے نجی اجتماعات پر بھی نظر رکھے گی تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ پولیس نے تمام نئے سال کی تقریبات کے لئے پبس، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کیلئے لازمی طور پر رات 1 بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔ مقررہ وقت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کمشنر پولیس نے انتباہ دیا کہ اگر کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو فوری طور پر لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ نئے سال کی تقاریب میں شامل ہونے والے افراد کے ہجوم سے نمٹنے کے لئے میٹری ونم، نیکلس روڈ، ٹینک بند اور کے بی آر پارک سمیت اہم مراکز پر چیک پوسٹس اور رکاوٹیں مضبوط کی جائیں گی۔ سیکیورٹی شدید ہونے کے باوجود کمشنر نے عام عوام کو تکلیف نہ دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے عہدیداران کو ہدایت دی کہ تقریبات پرامن رہیں اور پولیس محفوظ نئے سال کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرے۔ ہمارا عزم ہے کہ ان تقریبات کے دوران حیدرآباد میں ایک بھی منشیات کا کیس درج نہ ہو جسے یقینی بنانے کے لیے خصوصی فورسیز تعینات کی جارہی ہیں۔ب