نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے کئی نامور کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی

   

ممبئی اور اترپردیش کی دو کمپنیاں دوڑ میں، پراجیکٹ پر 600 کروڑ کا خرچ، کام کی مدت 12 ماہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت کے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں کئی نامور کمپنیوں نے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ 600 کروڑ روپئے کے خرچ سے تعمیر کئے جانے والے سکریٹریٹ کامپلکس کے ٹنڈرس طلب کئے گئے تھے اور بتایا جاتا ہے کہ کئی کنسٹرکشن کمپنیوں نے اس پراجیکٹ میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ٹاٹا پراجیکٹس، شاہ پور جی پلونجی، ایل اینڈ ٹی اور ممبئی کے جے ایم سی پراجکٹس کے علاوہ اترپردیش پراجکٹ لمیٹیڈ نے ٹنڈر ڈاکیومنٹس حاصل کئے ہیں۔ 5 کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے طلب کردہ ماقبل ٹنڈر کانفرنس میں شرکت کی اور حکومت پر زور دیا کہ کنٹراکٹ میں اڈوانس کی وصولی کی گنجائش فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کنٹراکٹ کی مالیت کا کم از کم پانچ فیصد کام کے آغاز پر دیا جانا چاہئے۔ کمپنیوں میں کامپلکس کی تعمیر کے لیے دی گئی 12 ماہ کی مہلت کو بڑھاکر 18 ماہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے کیوں کہ 7 لاکھ مربع فیٹ علاقے پر تعمیری کام انجام دیا جانا ہے۔ 2 ایکر اراضی پر یہ کامپلکس تعمیر کیا جارہا ہے جس میں پارکنگ اور دیگر سہولتیں دستیاب رہیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ جملہ 25 ایکر اراضی پر سکریٹریٹ محیط رہے گا۔ محکمہ عمارات و شوارع کے عہدیداروں نے واضح کردیا کہ کنٹراکٹ کے معاہدے میں اڈوانس کی وصولی کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ کنٹراکٹر کو اڈوانس کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ بلس کی پیشکشی پر ادائیگی عمل میں آئے گی۔ کام کی مدت میں توسیع سے متعلق معاملے کو چیف منسٹر سے رجوع کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک ٹنڈرس کو قطعیت دے دی جائے گی۔