متواتر شکست کے باوجود قائدین سبق لینے تیار نہیں، گروہ بندیاں عروج پر، ریونت ریڈی کی تائید میں اکثریتی رائے
حیدرآباد۔ عام طور پر سیاسی جماعتیں انتخابی شکست کے بعد گھر کو سدھارنے مصروف ہوجاتی ہیں اور کمزوریوں و خامیوں کی اصلاح کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن تلنگانہ میں کانگریس کا حال مختلف ہے۔ 2014 سے مسلسل انتخابی ناکامیوں نے ایک طرف پارٹی کو کمزور کردیا تو دوسری طرف قائدین اور کارکنوں میں مایوسی کی لہر دوڑادی باوجود اس کے کانگریس قائدین سبق لینے تیار نہیں ہیں۔ پارٹی میں نئی جان پھونکنے ہائی کمان نے کسی حرکیاتی قائد کو پردیش کی صدارت پر فائز کرنے پہل کی۔ اس موقع کو غنیمت جان کر قائدین اتفاق رائے اور اتحاد کا مظاہرہ کرکے کسی قائد کے حق میں رائے دے سکتے تھے لیکن کیڈر کو اس وقت حیرت ہوئی جب پارٹی میں گروہ بندیاں دوبارہ منظرعام پر آگئیں۔ صدر کانگریس کے عہدہ کیلئے بے شمار دعویدار اُبھر کر آگئے جس کے نتیجہ میں ’ ایک انار سو بیمار والا ‘ محاورہ صادق آتا ہے۔ ہائی کمان نے نئے صدر پر مشاورت کیلئے انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور کو روانہ کیا جنہوں نے چار دن 200 سے زائد قائدین سے انفرادی ملاقات کرکے صدر کے بارے میں رائے حاصل کی۔ مانکیم ٹیگور کو اس وقت حیرت ہوئی جب صدارت کیلئے نہ صرف کئی دعویدار منظر عام پر آگئے بلکہ کئی نے اپنی دعویداری سے زیادہ مخصوص ناموں کی مخالفت میں اپنا وقت صرف کردیا۔ 2014 میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے کانگریس کسی بھی ضمنی چناؤ حتیٰ کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کرسکی باوجود اس کے قائدین کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی اور وہ سدھرنے تیار نہیں ہیں۔ قائدین کے رویہ نے ایک طرف عوام کو کانگریس سے دور کردیا تو دوسری طرف کارکن اور سیکنڈ کیڈر لیڈر شپ دیگر جماعتوں کا رُخ کررہی ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے مشاورت کے بعد اکثریتی رائے کی بنیاد پر صدر کے انتخاب کا فیصلہ کیا لیکن مانکیم ٹیگور کے قیام کے آخری دن بعض قائدین نے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کردی۔ ایم پی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور بعض ارکان اسمبلی نے مانکیم ٹیگور سے دیگر پارٹی سے شامل ہونے والے قائد کو پردیش کانگریس کی صدارت کی مخالفت کی۔ ان کا اشارہ واضح طور پر رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی طرف تھا جو تلگودیشم سے کانگریس میں شامل ہوئے اور انتخابات کے موقع پر کانگریس میں سرگرم رہے۔ ذرائع کے مطابق چار روزہ مشاورت کے دوران قائدین کی اکثریت نے ریونت کے نام کی تائید کی۔ ضلع کانگریس اور سٹی کانگریس صدور کی تعداد تقریباً 48 ہے ان میں سے 90 فیصد نے صرف ایک نام کی سفارش کی اور وہ ریونت ریڈی تھا۔ پارٹی کے استحکام اور ٹی آر ایس و بی جے پی سے مقابلہ کی صلاحیت کے اعتبار سے اکثریت نے ریونت کا نام پیش کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے نائب صدور ، جنرل سکریٹریز اور محاذی تنظیموں کے صدور نشین کی اکثریت نے بھی ریونت کی تائید کی۔ پارٹی حلقوں میں جب یہ بات عام ہونے لگی تو بعض ارکان اسمبلی و کونسل نے سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کے ساتھ اجلاس کرکے ریونت کی مخالفت کی۔ ٹیگور اور ارکان مقننہ کی ملاقات میں مباحث کی اطلاع ہے جس پر ٹیگور نے واضح کردیا کہ ہائی کمان اکثریتی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا جس کے بعد مذکورہ گروپ نے دہلی پہنچ کر ہائی کمان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔