نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات ، بی آر ایس کی رائے دہی پر تجسس

   

خود کو دور رکھنے پر غور ، این ڈی اے کو فائدہ ممکن ، مجلس کی انڈیا کو تائید
حیدرآباد۔27۔اگسٹ(سیاست نیوز) نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں بھارت راشٹرسمیتی حصہ نہیں لے گی !ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارت راشٹرسمیتی نے نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات کے دوران رائے دہی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کے امیدواروں میں کسی کی بھی تائید سے گریز کرنے کا ذہن بنالیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ 9 ستمبر کو منعقد ہونے والے نائب صدر جمہوریہ کے لئے رائے دہی کے دوران بی آر ایس ارکان پارلیمان حصہ نہیں لیں گے۔کارگذار صدر بی آر ایس مسٹر کے ٹی راما راؤ نے نائب صدرجمہوریہ کے انڈیا اتحاد کے امیدوار کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ تلنگانہ میں کسانوں کو یوریا کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جو پارٹی تلنگانہ کے کسانوں کو یوریا کی سربراہی یقینی بنائے گی ان کی جماعت اس پارٹی کے امیدوار کی تائید کے لئے تیار ہے۔بتایاجاتا ہے کہ بی آ رایس پارٹی قیادت نے تلنگانہ کے مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی تائید نہیں کرے گی اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لئے ہونے والی رائے دہی سے خود کو دور رکھے گی۔واضح رہے کہ این ڈی اے نے مہاراشٹرا کے گورنر مسٹر سی پی رادھاکرشنن کو نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ کے لئے امیدوار بنایا ہے جبکہ ’انڈیا‘ اتحاد نے سابق جسٹس سپریم کورٹ جسٹس بی سدرشن ریڈی کو اپنے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے جن کا تعلق تلنگانہ سے ہے۔جسٹس بی سدرشن ریڈی کو انڈیا اتحاد کا امیدوار بنائے جانے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کی تائید کی جائے گی لیکن تلگو دیشم پارٹی جو کہ این ڈی اے اتحاد میں شامل ہے نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ وہ اخلاقی طور پر این ڈی اے امیدوار کے حق میں ہی اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے کیونکہ وہ این ڈی اے کا حصہ ہیں۔اسی طرح وائی ایس آر سی پی نے بھی این ڈی اے کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی مسٹر سی پی رادھا کرشنن کی تائید کا اعلان کیا ہے ۔بھارت راشٹرسمیتی اگر نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کے عمل سے خود کو دور رکھتی ہے تو ایسی صورت میں بھی این ڈی اے کی مدد ہوگی کیونکہ انڈیا اتحاد کے امیدوار کے پاس اتنی تعداد نہیں ہے کہ وہ بہ آسانی ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکیں اور اگر ایسے میں بی آر ایس رائے دہی سے غیر حاضر رہتی ہے تو اس کا فائدہ این ڈی اے امیدوار کو حاصل ہوگا۔ذرائع کے مطابق مجلس اتحاد المسلمین نے ’انڈیا اتحاد‘ کے امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گذشتہ نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں بی آرایس نے اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار مارگریٹ الوا کی تائید کی تھی اور اس سے قبل وینکیا نائیڈو کو تلگو امیدوار ہونے کی بناء پر این ڈی اے کی تائید کی تھی۔3