کراکس، 4 جنوری (یو این آئی) وینزویلا کے سپریم کورٹ نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو امریکی فوجی آپریشن میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد فوری طور پر قائم مقام صدر کا کردار سنبھالنے کا حکم دیا۔کیرسلیا روڈریگ نے وی ٹی وی کے ذریعے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا “ریپبلک کے صدر نکولس مادورو کے اغواء سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر، یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جمہوریہ کے ایگزیکٹو نائب صدر کو قائم مقام کے بطور تمام اختیارات، فرائض، اور افعال کو سنبھالنے اور استعمال کرنے کا حکم دیا جائے ، تاکہ وہ صدر کے دفتر کو حاصل تمام اختیارات، فرائض اور کام کاج کو یقینی بنائے ۔” وینزویلا مین آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت ایسے التزامات ہیں کہ صدر عارضی یا مطلق غیر موجودگی کی صورت میں نائب صدر کو صدارتی فرائض سنبھالنے کی اجازت ملتی ہے ۔ خزانہ اور تیل کی وزارتیں سنبھالنے والی ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر سے اس کردار میں کام کرنا شروع کردیا ہے ۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹے بعد، 56 سالہ روڈریگز نے نیشنل ڈیفنس کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزراء اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ انہوں نے مغویہ صدر اور ان کی اہلیہ کی “فوری رہائی” کا مطالبہ کیا اور امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے “بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ انہوں نے وینزویلا کے باشندوں پر زور دیا کہ وہ اس کارروائی کو مسترد کریں اور لاطینی امریکی حکومتوں سے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کریں۔
عدالت عظمی نے کہا کہ وہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے لوگوں اور سرزمین کے خلاف کی جانے والی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کے ساتھ ساتھ مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغواء کو مسترد کرتی اور مذمت کرتی ہے ۔
