نیامے : 26 جولائی کو نائجر میں بغاوت کرنے والیفوجی ٹولے نے ایک نیا بیان جاری کیا۔بیان میں اعلان کیا گیا کہ فرانس کے ساتھ تمام فوجی تعاون اور پروٹوکول کا کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔یہ بھی اعلان کیا گیا کہ نائجرنے فرانس، نائجیریا اور امریکہ کے سفیروں کو برطرف کر دیا ہیفوجی ٹولے نے اپنے بیان میں مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری کو بھی دھمکی دی اور کہا کہ وہ نائیجر میں فوجی آپریشن کی صورت میں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر اچانک حملہ کریں گے۔نائجر میں فرانس 24 چینل اور فرانسیسی ریڈیو آر ایف آئی کی نشریات بھی منقطع کر دی گئیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے نائجر میں فوجی ٹولے کی طرف سے ان چینلز کی نشریات بند کرنے کی مذمت کی۔نائجر کے صدر محمد بزوم نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھے ایک مضمون میں عالمی برادری اور امریکا سے مدد کی درخواست کی۔بزوم نے زور دے کر کہا کہ اس بغاوت کے دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ECOWAS ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان نے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں ملاقات کی۔ بیان میں نائجر میں جمہوریت کی بحالی کے عزم پر زور دیا گیا۔روسی زر فوجی دستے ویگنر کے رہنما یوگینی پریگوڑن نے نائجر میں فوجی بغاوت کی حمایت میں بیان جاری کیا ہییہ دعوی کرتے ہوئے کہ نائجر کے لوگوں کو غربت میں دھکیل دیا گیا ہے، پریگوڑن نے کہا، “نائیجر میں تبدیلی ضروری تھی۔”