محکمہ جنگلات کی جانب سے سختی سے عمل آوری کے اقدامات
حیدرآباد :۔ تلنگانہ کے محکمہ جنگلات نے نائیلان ۔ سنتھیٹک تاگے اور کانچ سے تیار کئے جانے والے ’ مانجے ‘ کے پتنگ بازی کے لیے استعمال پر امتناع کو سختی سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ محکمہ کی جانب سے اس طرح کے امتناع کی خلاف ورزی کی اطلاعات دینے کے لیے 24×7 کام کرنے والی ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے ۔ اس طرح کی خلاف ورزیوں کی 1800-425-5364 اور 040-23231440 پر اطلاع دی جاسکتی ہے ۔ پرنسپل چیف کنزرویٹر فاریسٹ و چیف وائلڈ لائف وارڈن آر شوبھا نے کانچ سے تیار کئے جانے والے نائیلان مانجے پر امتناع کے سلسلہ میں غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مانجے کے استعمال سے جانوروں ، انسانوں ، پرندوں اور ماحولیات کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔ کئی برسوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس مانجے سے بے شمار انسان ، پرندے ، جانور شدید زخمی ہوئے ہیں اور بعض کی اموات بھی واقع ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنتھیٹک مانجہ ماحولیات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ یہ طویل وقت تک درختوں ، برقی تاروں ، اور چھتوں پر موجود رہتا ہے ۔ جس سے زہریلے مادے بھی خارج ہوتے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں بھی اموات پیش آئی ہیں ۔ اس طرح کے مانجے کے استعمال سے انگلیاں ، ہاتھ اور حلق تک کٹ سکتے ہیں ۔ پیدل راہرو اور موٹر سیکل رانوں کو بھی اس سے زخم آسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں اس مانجہ سے مقامی روایتی دھاگہ سے مانجہ تیار کرنے والے بے شمار افراد کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے ۔ نیشنل گرین ٹریبونل نے 2017 میں نائیلان مانجے کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے ۔ اس مانجے کی تیاری ، فروخت ، ذخیرہ اندوزی ، خریداری اور استعمال پر پابندی ہے جس پر محکمہ کی جانب سے سختی سے عمل کیا جائے گا ۔۔