۔9340 کروڑ کا حصول، لاک ڈاؤن کے سبب آمدنی متاثر ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کی سنگین صورتحال کے باوجود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے لاک ڈاؤن کے نفاذ سے گریز کیا تھا کہ سرکاری خزانہ کی آمدنی متاثر نہ ہو۔ چیف منسٹر کی یہ مساعی کامیاب ثابت ہوئی کیونکہ اپریل کے دوران تلنگانہ حکومت کو 9340 کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی جبکہ حکومت نے 16000 کروڑ کا نشانہ مقرر کیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کورونا کی موجودہ صورتحال اور نائیٹ کرفیو کے باوجود 9340 کروڑ کی آمدنی حوصلہ افزاء ہے۔ ذرائع کے مطابق نائیٹ کرفیو کے باوجود تلنگانہ میں ٹیکس کلکشن کی آمدنی بہتر رہی ہے۔ کورونا کی پہلی لہر میں سرکاری خزانہ کو بھاری نقصان ہوا تھا۔ گزشتہ ماہ حکومت کو ایکسائیز سے 1000 کروڑ اور اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن سے 700 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ 2018-19 میں اپریل کے دوران ریاست کو 9860 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ حکومت کو امید تھی کہ موجودہ صورتحال کے نتیجہ میں مئی اور جون میں آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا لیکن حکومت نے 10 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے جس کے نتیجہ میں ریاست کی آمدنی پھر ایک بار متاثر ہوسکتی ہے۔