نائیٹ کرفیو کے نتیجہ میں کپڑے کا کاروبار بری طرح متاثر

   

ٹیلرس بھی گاہکوں کے منتظر، ریڈی میڈ ملبوسات کے رجحان میں اضافہ
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے کورونا کیسس پر قابو پانے کیلئے ریاست بھر میں نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے نتیجہ میں کپڑے کے تاجروں اور ٹیلرس کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ 20 اپریل سے نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے بعد سے رمضان المبارک کے باوجود تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ رمضان المبارک میں زیادہ تر کپڑوں کی خریداری کی جاتی ہے جس کے لئے کپڑے کے تاجرین نے رمضان کا نیا اسٹاک بھی حاصل کرلیا تھا لیکن اچانک کورونا کیسس میں اضافہ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ رمضان میں بہتر کاروبار کی امید کرنے والے تاجروں کو نائیٹ کرفیو سے مایوسی ہوئی کیونکہ لوگ کپڑے کی خریدی کیلئے دکانات کا رخ نہیں کررہے ہیں صرف ضروری سامان کی خریداری کیلئے لوگ بازار میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کیسس میں اضافہ کے پیش نظر عوام میں خوف کا ماحول ہے اوردن بھر دکانات کھلی رکھنے کے باوجود کپڑے کے تاجروں کے پاس معمولی تجارت دیکھی جارہی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ 2019 سے ہی کاروبار کی رفتار سست ہے اور گزشتہ سال رمضان المبارک لاک ڈاؤن میں گذر گیا جس کے نتیجہ میں بھاری نقصان ہوا تھا۔ رمضان میں زیادہ تر کرتا پاجامہ اور عیدین کیلئے دیگر ملبوسات کی خریدی کی جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ریڈی میڈ کپڑے خریدنے میں دلچسپی دکھارہے ہیں اور ریڈی میڈ کی دکانات پر کسی قدر ہجوم ہے جبکہ کپڑے کی دکانات دن بھر خالی ہیں۔ کپڑے کے کاروبار کا اثر ٹیلرس پر بھی پڑا ہے۔ ویسے بھی نئے کپڑوں کی سلوائی کے رجحان میں دن بہ دن کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگ ریڈی میڈ کپڑوں کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ممبئی، گجرات، واراناسی اور دیگر شہروں سے نیا اسٹاک حاصل کیا گیا تھا لیکن کیسس میں اضافہ نے انہیں مایوس کردیا ہے۔ حکومت نے 8 مئی تک کرفیو میں توسیع کردی ہے لہذا رمضان المبارک کے اختتام تک کاروبار کی یہی سُست رفتاری جاری رہے گی۔