رنگاریڈی کی قطب شاہی مسجد کی اراضی کے سلسلہ میں ضلع کلکٹر کو مکتوب
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے حیدرآباد اور رنگاریڈی میں واقع دو اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور تعمیری سرگرمیوں کو روکنے کیلئے متعلقہ حکام کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ نارائن گوڑہ میں سرنظامت جنگ مدینہ منشن کے تحت موجود وقف اراضی پر کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں بورڈ کو شکایات موصول ہوئیں۔ بورڈ نے ٹاسک فورس اور انسپکٹر آڈیٹر کے ذریعہ رپورٹ طلب کی۔ کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور انسپکٹر پولیس نارائن گوڑہ کو علحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے تعمیری سرگرمیوں کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ نارائن گوڑہ مدینہ منشن کی اراضی اے پی گزٹ نمبر 28-A مورخہ 19 جولائی 1984 میں درج ہے۔ وقف بورڈ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ 926 مربع گز پر تعمیر کی اجازت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے حاصل کرتے ہوئے تعمیری کام کا آغاز کیا گیا۔ کمشنر بلدیہ سے درخواست کی گئی کہ وہ تعمیری اجازت نامہ کو منسوخ کردیں کیونکہ یہ ایک تاریخی عمارت ہے۔ اس سلسلہ میں اسٹیشن ہاوز آفیسر نارائن گوڑہ سے ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی۔ دوسری طرف رنگاریڈی ضلع کے راجندر نگر منڈل کے عطا پور میں واقع مسجد قطب شاہی ( بڑی مسجد ) کے تحت موجود 7 ایکر 10 گنٹے اوقافی اراضی پر تعمیری سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کلکٹر رنگاریڈی کو مکتوب روانہ کیا گیا۔ درگاہ حضرت سید ابراہیم حسینی ؒ اور مسجد قطب شاہی کے تحت اراضی درج اوقاف ہے۔ مقامی قابضین تعمیری کام انجام دے رہے ہیں جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ کلکٹر سے خواہش کی گئی کہ اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں ریونیو اور بلدی عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کریں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ شخصی طور پر ان جائیدادوں کا معائنہ کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جائیدادوں کی اراضیات کے تحفظ میں وقف بورڈ کوئی کسر باقی نہیں رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ عدالت میں سینئر کونسلس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔