ناراض قائدین کو منانے کیلئے نامزدعہدوں پر تقررات کی تیاریاں

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر کی مشاورت ، 20 اداروں کی نشاندہی، اقلیتی ادارے بھی شامل
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں انتخابی ناکامیوں کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے ناراض قائدین کو منانے کی کوششوں کے طور پر مختلف کارپوریشنوں اور نامزد عہدوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مختلف کارپوریشنوں اور دستوری اداروں سے متعلق تفصیلات حاصل کرکے موزوں شخصیتوں کی تلاش شروع کردی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر جنوری میں وسیع تر تقررات کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے علاوہ ایم ایل سی کی دو نشستوں اور ناگرجنا ساگر کے ضمنی چناؤ میں قائدین اور کیڈر کو متحرک رکھا جاسکے۔ تلنگانہ تشکیل کے بعد سے حکومت نے نامزد عہدوں پر بہت کم تقررات کئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وزرا اور سینئر قائدین سے ضلع واری سطح کی رپورٹ طلب کی گئی ہے جس میں ایسے قائدین کے نام حاصل کئے گئے جو 2001 سے پارٹی سے وابستہ ہیں اور جنہیں ابھی تک کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں دستوری اداروں پر تقررات کا امکان ہے جن میں پبلک سرویس کمیشن، ویمنس کمیشن، بی سی کمیشن اور اقلیتی کمیشن شامل ہیں۔ ہائی کورٹ نے بی سی کمیشن پر تقررات کی حکومت کو ہدایت دی ۔ گذشتہ سات برسوں میں ویمنس کمیشن پر تقررات نہیں کئے گئے۔ حال میں پبلک سرویس کمیشن صدرنشین و تین ارکان سبکدوش ہوئے۔ حکومت 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات کا منصوبہ رکھتی ہے لہذا پبلک سرویس کمیشن پر جلد تقررات کئے جاسکتے ہیں۔ اقلیتی کمیشن کی میعاد جنوری کے اوائل میں ختم ہوجائیگی ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر مختلف کارپوریشنوں و کمیشنوں میں 20 نامزد عہدوں پر تقررات کا فیصلہ کرچکے ہیں تاکہ قائدین و کیڈر میں اعتماد بحال کیا جاسکے۔ سابق ایم پی جی سدھارانی اور کریم نگر کی سابق ضلع پریشد صدرنشین ٹی اوما ویمنس کمیشن کے اہم دعویداروں میں ہیں۔ پبلک سرویس کمیشن کے صدر نشین اور ارکان کے عہدوں کیلئے کئی ریٹائرڈ عہدیداروں نے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ حکومت کو جلد سے جلد تقررات کے ذریعہ سرکاری جائیدادوں کی بھرتی کا عمل شروع کرنا ہے۔ دوباک اور گریٹر حیدرآباد میں کمزور مظاہرہ کے بعد سے چیف منسٹر نے ناراض قائدین پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین راملو اور 4 ارکان کی میعاد پہلے ہی ختم ہوچکی ہے۔ تلنگانہ میں چیف انفارمیشن کمشنر کا عہدہ بھی خالی ہے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی اداروں کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں۔ حج کمیٹی اور اقلیتی کمیشن کی میعاد جنوری میں ختم ہورہی ہے جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین کا عہدہ کئی ماہ سے خالی ہے۔ حکومت نے اردو اکیڈیمی کے صدرنشین کا تقرر تو کیا لیکن بورڈ ممبرس کے تقررات نہیں کئے گئے تھے۔صدرنشین اردو اکیڈیمی کی میعاد 2021 میں ختم ہوجائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اقلیتی قائدین کو بعض عام زمرہ کے اداروں میں نامزد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی سے اہل اور مستحق قائدین و کارکنوں کے ناموں کی فہرست طلب کی گئی ہے۔