راجگیر (نالندہ)، 28 اگست (یو این آئی) بہار کے دیہی ترقی کے وزیر شرون کمار اور ہلسا کے ایم ایل اے کرشن مراری عرف پریم مکھیا پر بدھ کو مشتعل گاؤں والوں نے اُن کے آبائی علاقے میں حملہ کیا اور اُن کا تعاقب کرتے ہوئے اُنہیں بھگا دیا، جو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا آبائی ضلع بھی ہے۔ وزیر اور ایم ایل اے نالندہ ضلع کے ملما گاؤں گئے تھے جہاں حادثہ کے نو متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔قابل ذکر ہیکہ ڈرامہ اس وقت شروع ہوا جب لاٹھی ڈنڈوں سے لیس مشتعل گاؤں والوں نے انتظامیہ کے لاتعلق رویہ اور معاوضے کی عدم ادائیگی پر ناراض ہوکر وزیر اور ایم ایل اے کا تعاقب کیا اور انہیں تقریباً ایک کلومیٹر تک بھاگنے پر مجبور کیا۔ وزیر کو موقع سے فرار ہونے کے دوران تین گاڑیاں تبدیل کرنی پڑیں۔سرکاری ذرائع نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں میں اضافی پولیس فورس بھیجی گئی ہے اور سیکورٹی سخت کردی گئی ہے ۔ سیکورٹی اہلکاروں نے حالات کو قابو میں کر لیا ہے ۔ پولیس نے حملے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔ واقعہ کی تفصیلات دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اور ایم ایل اے صبح تقریباً 10 بجے ملما گاؤں پہنچے اور 23 اگست کو پٹنہ کے فتوحہ میں ہوئے ایک المناک سڑک حادثے میں ہلاک ہونے والے 9 افراد کے سوگوار کنبوں کو تسلی دی۔ وزیر مسٹر کمار اور ایم ایل اے مراری نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ جلد ہی معاوضہ دیا جائے گا۔تاہم کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب لیڈران جانے کی تیاری کر رہے تھے ۔ گاؤں والوں نے معاوضے کی کارروائی پر بات کرنے کے لیے اُن سے رکنے درخواست کی ۔ جب وزیر مسٹر کمار نے کہا کہ اُن کی دوسری مصروفیات ہیں، تو بھیڑ نے ایم ایل اے کے خلاف احتجاج کیا، اور الزام لگایا کہ وہ وقت پر معاوضہ کو یقینی بنانے کے اپنے پہلے وعدے سے مکر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق چند ہی لمحوں میں گاؤں والوں نے لاٹھیوں سے لیس وزیر اور ایم ایل اے کو گھیر لیا۔ جب حالات قابو سے باہر ہو گئے تو دونوں رہنما پولیس کی حفاظت میں تقریباً ایک کلومیٹر تک بھاگتے رہے ۔ذرائع نے بتایا کہ گاؤں والوں نے لاٹھی ۔ ڈنڈے اور پتھر پھینکے جس سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ لیڈروں کو دو بار گاڑیاں بدلنی پڑیں اور آخر کار تیسری گاڑی میں فرار ہو گئے یہاں تک کہ ہجوم اُن کا پیچھا کرتا رہا اور پتھراؤ کرتا رہا۔ اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں ایک پولیس محافظ زخمی ہوا ہے ۔وزیر کے ساتھ اس واقعے کا تعلق ہفتہ کی صبح پٹنہ کے شاہجہاں پور تھانہ علاقے میں سیکیریاوا ہالٹ کے قریب ایک خوفناک سڑک حادثے سے ہے جس میں ٹرک اور آٹو کے درمیان تصادم میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ تمام مہلوکین کا تعلق ملماگاؤں سے تھا جس کی وجہ سے گاؤں میں غم اور غصے کا ماحول ہے ۔اس دوران وزیر مسٹر کمار نے حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واقعہ کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا یہ بہار ہے ۔ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ہماری حمایت کرتے ہیں، کچھ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ ہم اسے ا پنی عوامی زندگی کا حصہ سمجھ کر اس کا سامنا کرتے ہیں۔تین دنوں کے اندر بہار کے کسی وزیر پر یہ دوسرا حملہ ہے ۔ اس سے پہلے 25 اگست کو پٹنہ کے اٹل پتھ پر وزیر صحت منگل پانڈے کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔
بہار: نتیش کابینہ کے وزیر شراون کمار پر حملہ
پٹنہ : 17 اگست (ایجنسیز) نالندہ کے ملاون گاؤں میں 9 افراد کی موت کے بعد تعزیت پیش کرنے پہنچے بہار کے وزیر شروان کمار پر مقامی لوگوں نے حملہ کر دیا۔ واقعے کے دوران مشتعل گاؤں والوں نے پتھرائو کیا، جس کے باعث وزیر اور ایک مقامی ایم ایل اے کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ گاؤں والوں نے وزیر اور ان کے سیکیورٹی اہلکاروں کا پیچھا بھی کیا۔ اس حملے میں ایک باڈی گارڈ زخمی ہو گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حالات پر قابو پانے کے لیے بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تین دن قبل ایک سڑک حادثے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وزیر اور ایم ایل اے اسی واقعے سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے لیے گاؤں گئے تھے۔ دونوں رہنمائوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور پھر واپس جانے لگے۔ گاؤں والوں نے ان سے کچھ دیر اور رکنے کی درخواست کی، لیکن وزیر نے کہا کہ وہ تمام خاندانوں سے مل چکے ہیں اور انہیں دوسرے پروگرام میں جانا ہے۔
اس کے بعد معاوضے کے مسئلے پر گاؤں والے بھڑک گئے۔گاؤں والوں کا الزام ہے کہ حادثے والے دن انہوں نے ایم ایل اے کے وعدے پر سڑک کا جام ہٹایا تھا، لیکن آج تک انہیں مناسب معاوضہ نہیں ملا۔ اس پر ناراض ہو کر دیہاتیوں نے تشدد کیا اور حملہ کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر بڑی تعداد میں پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور مشتعل گاؤں والوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس سے قبل پیر کو وزیر منگل پانڈے پر پٹنہ میں حملہ ہوا تھا۔ مشتعل لوگوں نے اٹل پتھ پر شدید ہنگامہ کرتے ہوئے صحت کے وزیر منگل پانڈے کی گاڑی اور ان کے اسکواٹ پر حملہ کیا۔ اس حملے میں وزیر کے قافلے کی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ قافلے سمیت وزیر منگل پانڈے کے بھاگنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اس پر آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے طنز کیا تھا