نارا لوکیش کی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات

   

آندھرا پردیش میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے مداخلت کی اپیل، پدیاترا روکنے کیلئے مقدمہ میں ماخوذ کرنے کی شکایت

حیدرآباد۔/26ستمبر، ( سیاست نیوز) تلگودیشم کے قومی جنرل سکریٹری نارا لوکیش نے آج نئی دہلی میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور آندھرا پردیش میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ نارا لوکیش نے تلگودیشم ارکان پارلیمنٹ کے نانی، جی جئے دیو، رام موہن نائیڈو، کے رویندر کمار کے ہمراہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کی اور انہیں یادداشت حوالے کی۔ انہوں نے اِسکل ڈیولپمنٹ مقدمہ میں چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کا حوالہ دیا اور کہا کہ غیر قانونی طریقہ سے چندرا بابو نائیڈو کو سی آئی ڈی نے گرفتار کیا جو سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔ انہوں نے جگن موہن ریڈی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو کچلنے کی سرگرمیوں سے واقف کرایا۔ آندھرا پردیش کی صورتحال پر صدر جمہوریہ کو یادداشت پیش کی گئی۔ بعد میں نارا لوکیش نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 2019 سے آندھرا پردیش میں اپوزیشن کے خلاف حملوں اور کارروائیوں سے صدر جمہوریہ کو واقف کرایا گیا ہے۔ تلگودیشم قائدین کو مقدمات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔ 45 سالہ عوامی زندگی میں رہنے والے چندرا بابو نائیڈو کو اِسکل ڈیولپمنٹ کیس میں گرفتار کیا گیا۔ نارا لوکیش نے کہا کہ صدر جمہوریہ کو تمام شواہد کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا میں پوسٹ کرنے پر مقدمات درج کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پدیاترا کے دوبارہ آغاز کے اعلان کے بعد انہیں اِنر رنگ روڈ مقدمہ میں شامل کیا گیا۔ لوکیش نے کہا کہ اِسکل ڈیولپمنٹ، فائبر گرڈ اور اِنر رنگ روڈ معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم کو نشانہ بنانے کیلئے انہیں مقدمہ میں ماخوذ کیا گیا۔ نارا لوکیش نے کہا کہ کسی بھی معاملہ میں چندرا بابو نائیڈو یا ان کے کسی فرد خاندان نے ایک پیسہ حاصل نہیں کیا۔