حیدرآباد۔/21ستمبر ، ( سیاست نیوز)صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف نئی دہلی میں قومی اور علاقائی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے قومی جنرل سکریٹری نارا لوکیش نے تفصیلات سے واقف کرایا۔ نارا لوکیش نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ ڈپٹی چیف منسٹر ہریانہ دوشنت چوٹالہ، بی ایس پی ارکان پارلیمنٹ کنور دانش علی، رتیش پانڈے، چیف منسٹر مہاراشٹرا ایکناتھ شنڈے کے فرزند رکن پارلیمنٹ سریکانت ایکناتھ شنڈے اور بیجو جنتا دل کے فلور لیڈر پیناکی مشرا سے ملاقات کی اور جگن موہن ریڈی حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائی کے طور پر گرفتاری کی شکایت کی۔ مختلف پارٹیوں نے لوکیش کو تیقن دیا کہ وہ چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف جدوجہد میں تعاون کریں گے۔ قائدین نے سیاسی انتقامی کارروائی کا الزام عائد کیا۔ نارا لوکیش نے بتایا کہ اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام کے نام پر چندرا بابو نائیڈو کو گرفتاری کے بعد ملزم بنایا گیا جبکہ ایف آئی آر میں نام درج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی تحویل کے دوران چندرا بابو نائیڈو کی صحت متاثر ہوئی ہے۔ لوکیش نے قومی قائدین کو اِسکل ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے بارے میں تیار کردہ بک لیٹ حوالے کیا۔ سریکانت ایکناتھ شنڈے نے کہا کہ وہ حیدرآباد پہنچ کر چندرا بابو نائیڈو سے شخصی ملاقات کرچکے ہیں تاکہ مہاراشٹرا میں حکومت کی جانب سے فلاحی اسکیمات پر تجاویز حاصل کرسکیں۔ ایکناتھ شنڈے کے چیف منسٹر بننے کے بعد انہوں نے چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی تھی۔شیوسینا رکن سریکانت شنڈے نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی میں چندرا بابو نائیڈو کا اہم رول ہے۔ بی جے ڈی رکن پارلیمنٹ پیناکی مشرا نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے چیف منسٹر اڈیشہ نوین پٹنائک سے بہتر مراسم ہیں۔ مذکورہ پارٹیوں نے چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنانے کا تیقن دیا۔