نارسنگی میں موسیٰ ندی مسئلہ پرکویتا کا احتجاج

   

نظام آباد: 4؍مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کے کویتا صدر تلنگانہ جاگروتی کی قیادت میں نرسنگی میں موسی ندی کے مبینہ تجاوزات کے خلاف مقامی عوام کے ہمراہ احتجاج منظم کیا گیا۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ موسی ندی کے بیچ ایک بڑے جائیداد منصوبہ کے تحت تعمیرات جاری ہیں لیکن حکومت اور متعلقہ حکام اس پر خاموش ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس حکومت اور حیدرآباد آفات سے نمٹنے و املاک کے تحفظ کے سرکاری ادارہ پر دوہرا معیار اختیار کرنے اور امتیازی انہدامی کارروائیوں کا الزام عائد کیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب موسی ندی کے اندر کثیر منزلہ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں تو حکام کو اس کی اطلاع کیوں نہیں، جبکہ غریب خاندانوں کے مکانات کو قانون کے نام پر فوری طور پر منہدم کیا جا رہا ہے۔ کویتا نے کہا کہ قُطب اللہ پور میں غریبوں کے مکانات مسمار کئے گئے اور کھمم کے ویلوگومتلہ علاقہ میں تقریباً 600 غریب خاندان بے گھر ہوئے۔ اسی طرح موسی کے کناروں پر آباد کئی خاندانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، مگر بااثر تعمیراتی حلقوں کے منصوبوں پر کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا انہوں نے سوال کیا کہ اگر آج یہ تعمیرات غیر قانونی قرار دی جا رہی ہیں تو کل انہیں قانونی کس بنیاد پر سمجھا گیا تھا؟ کویتا نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی خاموش نہیں رہے گی اور موسی ندی کے تحفظ اور تلنگانہ کے قدرتی وسائل کے دفاع کے لیے احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی جب تک حکومت ٹھوس اقدام نہیں کرتی۔ پولیس کے کویتا کو گرفتار کر تے ہوئے نرسیگی پولیس سٹیشن منتقل کیا۔