نازک گھڑی میں مودی نے فوج کو اکیلا چھوڑدیا:راہول ، پرینکا

   

سابق فوجی سربراہ جنرل نروانے کی کتاب کا حوالہ۔ چینی دراندازی کے مشکل مرحلہ پر سیاسی قیادت پیچھے ہٹ گئی

نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے سابق فوجی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے چینی دراندازی کے نازک وقت پر سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ کر فوج کو اکیلا چھوڑ دیا اور جب سابق جنرل کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی تفصیلات کی بنیاد پر وجوہات پوچھی جاتی ہیں، تو پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا جا رہا ہے ۔ راہول اور واڈرا نے چہارشنبہ کو لوک سبھا سے بجٹ اجلاس کے لیے معطل کیے گئے کانگریس کے آٹھ ارکان کے پارلیمنٹ ہاؤس کے ‘مکر دوار’ پر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے بعد صحافیوں سے کہا کہ بحران کی نازک گھڑی میں فوجی چیف کو انتظار کروایا گیا۔ جنرل نروانے نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ اس وقت سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا تھا اور اب جب اس کی وجوہات پوچھی جا رہی ہیں، تو اپوزیشن لیڈر کو پارلیمنٹ میں بولنے سے روک کر جمہوریت اور ملک کے عوام کی توہین کی جا رہی ہے ۔ سابق فوجی چیف کی کتاب صحافیوں کو دکھاتے ہوئے راہول نے کہا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے بارے میں اسپیکر اوم برلا اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر نوجوان کو دیکھنا چاہیے کہ اس کتاب میں لداخ کا پورا سچ لکھا ہوا ہے ۔ کتاب میں دی گئی تفصیلات سے واضح ہے کہ اس وقت پورے نظام نے جنرل نروانے کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ راہول نے کہا کہ جب جنرل نروانے نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فون کر کے بتایا کہ چینی فوج کے ٹینک کیلاش رِج پر آ گئے ہیں اور پوچھا کہ کیا کرنا ہے ، تو کوئی جواب نہیں ملا۔ نروانے کی جانب سے راج ناتھ سنگھ، وزیر خارجہ جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر سے پوچھنے پر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ نروانے نے راج ناتھ سنگھ کو دوبارہ فون کیا، جس پر وزیر دفاع نے کہا کہ میں ‘اوپر’ سے پوچھتا ہوں۔ اس وقت اعلیٰ سطح سے یہ حکم تھا کہ اگر چینی فوج ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو، تو ہماری اجازت کے بغیر فائرنگ نہ کی جائے ۔ فیصلہ لینے کے وقت وزیر اعظم کی جانب سے پیغام آیا کہ جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔’مودی پر طنز کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ وزیر اعظم کی اب لوک سبھا آنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے ۔ اگر وزیر اعظم ایوان میں آتے ہیں، تو وہ خود جا کر انہیں یہ کتاب سونپیں گے ، تاکہ وہ اسے پڑھ سکیں اور ملک کو یہ معلوم ہو سکے کہ لداخ تعطل کے دوران حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، ”کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جب چینی فوج ہماری سرحد میں گھس آئی تھی، ایسی نازک گھڑی میں فوجی چیف کو انتظار کروایا گیا۔راہول نے کہاکہ یہی وہ سچائی ہے ، جسے بولنے سے انہیں پارلیمنٹ میں روکا جا رہا ہے۔ ملک سوال پوچھ رہا ہے اور حکومت جواب دینے سے بھاگ رہی ہے ۔ کتاب میں لکھا ہے کہ جب فیصلہ لینے کا وقت آیا، تو وزیر اعظم نے سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر لیے ۔ جنرل نروانے نے خود لکھا ہے کہ اس وقت انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا۔ پرینکا نے حکومت پر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت چاہتی ہے کہ ایوان میں خلل پیدا کیا جائے تو وہ نشیکانت دوبے کو بولنے کے لیے کھڑا کر دیتی ہے ۔ جب گاندھی کو شائع شدہ کتاب کے اقتباسات پڑھنے نہیں دیے گئے ، تو نشیکانت دوبے چھ کتابیں لے کر ایوان میں آئے لیکن ان کا مائیک بند نہیں کیا گیا۔ ایوان میں بار بار نہرو جی کا نام لے کر ملک کی توجہ بھٹکائی جا رہی ہے ۔ حکومت دکھانا چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف انہی کی چلتی ہے ۔ یہ اسپیکر کے عہدے ، پارلیمنٹ، جمہوریت اور ملک کے عوام کی توہین ہے ۔ اپوزیشن لیڈر ایک فرد نہیں ہیں- وہ پوری اپوزیشن کے نمائندے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت ان کروڑوں لوگوں کا منہ بند کرنا چاہتی ہے جنہوں نے اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ کو ووٹ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو نروانے جی کی لکھی ہوئی باتیں معلوم نہ ہوں۔ جب چین کی فوج ہماری سرحد پر تھی، تو اقتدار میں بیٹھے لیڈر یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ اب کیا کرنا ہے ۔ دو گھنٹے بعد حکومت یہ کہتی ہے کہ آپ خود ہی فیصلہ لے لو اور بی جے پی کے یہی لوگ اندرا گاندھی جی اور تاریخ کی باتیں کرتے ہیں۔