نازیبا سلوک کرنے والے ٹریفک عہدیدار کیخلاف کارروائی کی ہدایت

   

Ferty9 Clinic

کمشنر پولیس سے وزیر داخلہ کا ربط، مریضوں کے ساتھ رعایت کرنے کا مشورہ
حیدرآباد ۔8۔ مئی(سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کمشنر پولیس انجنی کمار اور ایڈیشنل کمشنر پولیس ٹریفک انیل کمار سے ربط قائم کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے عوام کو ہراسانی کے واقعات پر قابو پانے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے آصف نگر پولیس اسٹیشن سے وابستہ ٹریفک پولیس عہدیدار کی جانب سے کل رات ایک خاتون ڈائلاسیس مریض اور اس کے افراد خاندان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہراسانی کے واقعات کو روکا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مانصاحب ٹینک کے قریب کل رات ٹریفک پولیس اور عہدیدار کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ کوئی مریض اپنے ساتھ طبی دستاویزات رکھے تو پولیس کو چاہئے کہ اس کے ساتھ رعایت کا معاملہ کرے ۔ خاتون ڈائلاسیس مریض کی جانب سے ہاسپٹل کی رپورٹ دکھائے جانے کے باوجود ٹریفک انسپکٹر نے گاڑی کو ضبط کرنے کی کوشش کی اور خاتون مریض کو سڑک پر بھیٹنے کیلئے مجبور کیا گیا ۔ محمود علی نے کمشنر پولیس کو ہدایت دی کہ وہ مذکورہ انسپکٹر سے وضاحت طلب کریں کیونکہ اس رویہ کے نتیجہ میں پولیس کا وقار مجروح ہوا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ علاج کے لئے جانے والے افراد کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گاڑی کے دستاویزات ، ڈرائیونگ لائسنس نہ ہوں تو پولیس چالان کرسکتی ہے لیکن مریض کو روکنے کی اجازت نہیں۔ مریضوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ، اس کے لئے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ حکومت لاک ڈاون کے دوران عوام کے تحفظ کے لئے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے ۔ محمود علی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران نکلنے والے افراد کو چاہئے کہ وہ اپنے ساتھ تمام دستاویزات رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی او ایم ایس 64 کے تحت حکومت نے مختلف پابندیاں عائد کی ہیں ۔ عوامی زندگی کے تحفظ کے لئے لاک ڈاون پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔ حکومت نے عوامی مقامات پر ہر شخص کو ماسک یا کپڑے سے چہرہ ڈھانکنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کو عوام کی زندگی کے تحفظ میں گہری دلچسپی ہے جس کے لئے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لاک ڈاون کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے گھروں تک محدود رہیں۔